Home Pakistan سموگ:پنجاب میں ماحولیاتی ایمرجنسی،ذمہ دار کون؟

سموگ:پنجاب میں ماحولیاتی ایمرجنسی،ذمہ دار کون؟

SHARE

پنجاب،لاہور نے ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی درجہ بندی میں شروع کا نمبر حاصل کر لیا ہے۔پنجاب حکومت نے لاہور میں ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ جہاں سموگ اور ہوا کے معیار کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے یہاں تک کہ اب شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

سارہ خالد

لاہوراور اس کے گردونواع کے شہروں میں ہوا کا معیار خطرناک حد تک گرتا جا رہا ہے۔ AQI (ایئر کوالٹی انڈیکس) پر شہر کی ہوا کامعیار 184 تک درج کیا گیا ہے۔ ماحولیات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق، دنیا بھر میں آلودہ ترین شہروں میں لاہورپانچویں نمبر پر ہے۔کبھی باغات کا شہر کہلانے والے لاہور کی ہوا کے معیار کی سطح تفتیش ناک حد تک گر رہی ہے۔ یہ رپورٹ درج کرتے وقت لاہور کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 668 تھا جو کہ انتہائی حد تمام جانداروں کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ واضح رہے کہ ہوا صرف اس صورت میں سانس لینے کے لیے محفوظ ہے جب ایئر کوالٹی انڈیکس 50 تک ہو!
سموگ،ہوائی آلودگی کی ایک سنگین اور انتہائی موضی قسم ہے۔یہ دھواں کوئلے اور دوسری کیمیکل اشیاء کے جلنے سے بنتا ہے۔ جب سورج کی روشنی نائٹروجن آکسائڈ اور مستحکم نامیاتی کمپاؤنڈ (VOC) کے ساتھ مل کر رد عمل کرتی ہے تو یہ فضائی ذرات آپس میں مل کر زمینی سطح سے اوپر اوزون یادھواں تشکیل دیتے ہیں جو سموگ کہلاتا ہے۔ماحول میں اعلی سطح پر اوزون کی پرت ہمیں سورج کی خطرناک الٹرایویل تابکاری سے محفوظ رکھتی ہے۔لیکن جب اوزون زمین کے قریب ہوتی ہے، تو یہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔بہت سے ممالک نے سموگ میں کمی کے لئے کئی طرح کے قوانین ترتیب کئے۔ کچھ قوانین فیکٹریوں میں خطرناک اور بے وقت دھواں کے اخراج پر پابندی لگاتے ہیں تو کچھ جگہوں پر فاضل مواد جیسا کہ پلاسٹک،کاغذ اور پتے وغیرہ کوضائع کرنے کے لیے مخصوص جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں دھواں کم خطرناک ہو کر ہوا میں خارج ہو جاتا ہے۔لیکن افسوس کہ پاکستان میں ایسے قوانین تو ہیں مگر ان پر عملدرآمد کاکوئی قانون نہیں۔ اس لیے آج ایک بار پھر پنجاب بھر میں سموگ کی چادر نے ہر چیز کو ڈھانپ لیاہے۔ صبح اور شام پھیلنے والی سموگ سے حدنگاہ میں کمی ہونے لگی ہے، لاہور میں 380 مائیکرو کیوبک فی میٹر کے حساب سے سموگ پیدا ہورہی ہے۔اگراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو نتائج مذیدخوفناک ہو سکتے ہیں۔
پنجاب کے دارالحکومت میں،جہاں شہری مہلک سموگ کے اثرات سے کھانسی، گھرگھراہٹ اور آنکھوں کے امراض میں گھرے ہوئے ہیں، اقتدار کے گلیاروں میں،اس فکر سے دور کہ شہر میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں،ایک چونکا دینے والی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
مسئلہ کا پیمانہ بہت بڑا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سموگ کی خطرناک ہوا مختلف صحت کی پیچیدگیوں کا سبب بنتی ہے، بشمول دمہ، پھیپھڑوں کو نقصان، برونکیل انفیکشن، فالج، دل کے مسائل، اور متوقع عمر میں کمی۔ شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایئر کوالٹی لائف انڈیکس کے 2019 کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ذرات کی فضائی آلودگی کی طویل مدتی موجودگی اوسط پاکستانی کی زندگی کو کم کر رہی ہے۔
’گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پولوشن‘ نے 2019 میں اندازہ لگایا تھا کہ سالانہ 128,000 پاکستانی فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس طویل عرصے سے جاری سموگ سے شہر کی آبادی کی صحت اور عمر کو پہنچنے والے طویل المدتی نقصانات کے اعدادوشمار ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔اس جے ساتھ ساتھ سموگ میں موجود اوزون پودوں کی نشوونما کو بھی روکتا ہے اور فصلوں اور جنگلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ذمہ دار کون؟
اس شدید خطرناک ماحولیاتی وباء کا ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ وہ سرمایہ دار طبقہ ہے جو اپنے سرمائے میں اضافے کے تناسب کو بڑھانے کے لئے آئے دن نئے نئے کارخانے لگا رہا ہے اور اپنی اس لالچ کی ہوس کو مذید پھیلاتے ہوئے کرہ ارض پر موجود جنگلات کو،جو اس ماحولیاتی آلودگی کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں،بہت بے دردی سے انکے وجود کا خاتمہ کر رہا ہے۔پاکستانی میٹرولوجیکل تحقیقی ادارے کے مطابق، حال ہی میں انڈیا میں ہزاروں کسانوں نے اپنی چاول کی فصل کو آگ لگا دی تھی جس کے اثرات اب دونوں ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر ناسا کی جاری کردہ رپورٹ دیکھی جائے تو انڈیا اور پاکستان کے حدبندی کے علاقوں پر سرخ نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی دھند نے پنجاب کے بیشتر شہروں کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اہلِ پنجاب دکھائی نہ دینے کیساتھ ساتھ صحت کی پریشانیوں میں بھی مبتلا ہیں۔ پچھلے سال بھی شہری اسی قسم کی دھند کا شکار رہے اور پچھلے سال کی طرح اس سال بھی واضح صحت کے مسائل دیکھنے میں آرہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی مذکورہ رپورٹ عام دنوں کے حوالے سے ہے اور اس امر کی شاہد کہ ہماری فضا اس قدر زہریلی ہو چکی کہ اس میں سانس لینا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اسموگ کو زمینی اوزون بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک وزنی پیلی سرمئی دھند ہے جو فضا میں جم جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں اور درختوں کا بیدردی سے کاٹا جانا صورتحال کو مزید تشویشناک بنادیتا ہے۔اس ماحول کی ہلاکت خیزی کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہمارے وہ حکمران ہیں جنہوں نے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے درخت لگائے نہیں بلکہ جو تھے انہیں بھی کاٹ ڈالا،اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کوئی انتظامات نہیں کیے اور سب سے قابلِ غور بات کہ جن تھرمل بجلی گھروں سے دنیا چھٹکارہ حاصل کر رہی ہے وہی پاکستان میں لگا کر ماحول کو مذیدآلودہ کیا جارہا ہے۔
دنیا کے 195 ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں برپا ہونے والے صنعتی انقلاب کے بعد زمین کا درجہ حرارت 2ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تجاوز نہیں کرنا چاہیے،کیوں کہ اس سے زیادہ درجہ حرارت ماحول کے لئے تباہ کن ہو سکتاہے۔اس وقت بڑھتی ہوئی سموگ کی ذمے دار ایندھن اور صنعتی عمل سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیذ اور دیگر گیسز ہیں اور اس وقت امریکہ اور چین دونوں ہی سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیذ پیدا کرنے والے ممالک ہیں۔سموگ سے سب سے زیادہ متاثر لاہور تا گجرات جی ٹی روڈ کے دونوں جانب کی گنجان صنعتی پٹی پر شائد ہی کوئی قطعہِ زمین خالی نظر آئے۔ لگتا ہے پاکستان کی سب سے بڑی صنعتی پٹی پر 122 کلو میٹر تک ایک ہی شہر دوڑے چلا جا رہا ہے۔جبکہ دوسری صنعتی پٹی شیخوپورہ تا فیصل آباد تک چل رہی ہے۔اگر صرف اسی صنعتی پٹی کے کارخانوں کی چمنیاں بدل دی جائیں؟ سڑکوں پر رواں ’ماحول دوست دھواں‘ چھوڑنے والی گاڑیوں کے جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس کے معاملے میں قانونی چارہ گوئی دکھائی جائے تو سموگ میں آدھی کمی آ سکتی ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہمیشہ اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ انفرادی سطح سے لے کر حکومتوں تک ہمیشہ یہ سننے کو ملا ہے کہ اگر فلاں ایسا نہ کرتا تو یہ نہ ہوتا،جبکہ یہ سب کیا دھرا ان سرمایہ داروں کا ہے،جو دن رات دو دو ہاتھوں سے غریب انسانوں کا خون چوس کر اپنی
تجوریوں کا پیٹ کو بھر رہے ہیں۔ خود کو ہمیشہ بری الذمہ قرار دینا اور تمام واقعات سے خود کو الگ کرنا انہیں خوب آتا ہے۔

SHARE