Home Special صرف محنت کش طبقہ ہی جنگ اور جنگ کے بعد فتح کی...

صرف محنت کش طبقہ ہی جنگ اور جنگ کے بعد فتح کی قیادت کر سکتا ہے!

SHARE

یوکرین کے حوالے سے انٹرنیشنل ورکرز لیگ کا ایک سالہ بیانات اور تجزیوں کانچوڑ
ہم اپنی بحث کا آغاز لیون ٹراٹسکی کی اس پوزیشن سے کرتے ہیں!

چوتھی بین الاقوامی کیلئے مشرقی یورپ بلکہ پورے یورپ کی تقدیر میں یوکرائنی سوال کی بے پناہ اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ایسے لوگوں کی بات کر رہے ہیں جن کی عملیت اور مزاحمت پر فخر کیا جانا چاہیے۔ یوکرین جو عددی طور پر فرانس کے برابر کی آبادی رکھتا ہے لیکن وسائل سے مالامال اور تزویراتی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ یوکرین کی مزاحمت نے یقینی طور پر اپنی تقدیر کو اُس دائرکار میں کھڑا کر دیا ہے جہاں پر ایک قطعی طور پر واضح نعرہ لگانے کی ضرورت ہے جو نئی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہو۔ ہمارے خیال میں اس وقت صرف ایک ہی نعرہ ہو سکتا ہے، ایک متحد آزاد اور خودمختار مزدوروں اور کسانوں کا سوویت یوکرین۔ لیون ٹراٹسکی (یوکرین کا مسئلہ 22 اپریل 1939

انٹر نیشنل ورکرز لیگ (چوتھی انٹر نیشنل) کا اعلامیہ

روسی فوج کے حملے اور قبضے کا آغاز ایک دیوہیکل فوجی آپریشن کے ساتھ اس ا علان سے ہوا کہ چند ہفتوں میں یوکرائنی حکومت کا تختہ الٹا دیا جائے گا۔ لوگوں کو آزاد کرواتے ہوئے ملک کو غیر فوجی اور منحرفین کو سزا دی جائے گی۔ یہ صرف پوٹن نہیں بلکہ سامراجی حکومتیں بھی بالکل ممکنہ طور پر ایسا ہی دیکھ رہیں تھیں، تاہم یہ حقیقت ہے جنگ ایک سال سے جاری و ساری ہے اور اصل میں یہ جنگ روسی قابضین کے خلاف روسی اشرافیہ کے تمام منصوبوں کو ناکام بنانے والا عنصر یوکرائنی محنت کش طبقے کی دلیرانہ مزاحمت ہے۔ہم شروع سے اس مزاحمت کی حمایت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔اپنے موقف کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے پروگرام کے دیگر عناصر کے ساتھ روسی حملے کے دفاع میں یوکرین کیلئے غیر مشروط بھاری ہتھیاروں اور فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔نیٹو کی تمام طرح کی مداخلتوں اور سامراج کا دوبارہ اسلحہ سازی کے بجٹ میں اضافے کی مخالفت اور روس میں جنگ مخالف سرگرمیوں کی حمایت،بورژوا زیلنسکی حکومت کی مذمت، خاص کر کے زیلنسکی کے محنت کش طبقے کے خلاف وہ اقدامات جو محنت کش طبقے کی مزاحمت کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔تاکہ بائیڈن اور یورپی یونین کی ماتحتی کو برقرار رکھا جا سکے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم جنگ کی مزاحمت کرنے کے ساتھ یوکرین کے محنت کشوں کی خودمختار تنظیم کی مادی اور سیاسی حمایت کیلئے ایک بین الاقوامی مہم کو مزید بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں کیونکہ آزاد و خو مختار تنظیم ہی یوکرین کے محنت کش طبقے کی مزاحمت کی فوجی اور سیاسی فتح کو ممکن بنا سکتی ہے۔
یوکرین کے خلاف پیوٹن کی جارحیت کو پہلے سے تیار کیا گیا تھا جس کی واضح مثال وہ فوجی مشقیں ہیں جو یوکرین کی سرحدوں کے ساتھ جاری تھیں۔ روس نے ان انتباہا ت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مغرب کی طرف سے ایک گھناؤنا بہتان ہے کہ روس پہلے سے یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا تھا حالانکہ یہ سچ ہے اور جب روس اس جنگ میں اپنی ہا ر دیکھ رہا ہے تو اپنی عوام اور دنیا بھر میں موجود حواریوں کو مواد مہیا کرنے کیلئے یہ تلاویلات گھڑ رہا ہے۔24 فروری 2022 کو جب پیوٹن نے بہت سارے محازوں پر حملہ اور مختلف چھاتہ بردار دستے کیف کے مضافات میں اتارتے ہوئے یہ جواز پیش کیاکہ مشرق میں نیٹو کی توسیع کی وجہ سے دفاعی اقدام کئے گئے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ نیٹو کی توسیع ایک رجعتی اورنا قابل ِ تردید حقیقت ہے لیکن اس حملے کی اصل وجہ قطعی یہ نہیں ہے کیونکہ بالٹک ریپبلک اسیٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا نے نیٹو میں پہلے سے شمولیت اختیارکر رکھی ہے۔ جو ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ کے بہت قریب ہیں اور حتی کہ یوکرین پر حملے کے بعد تاریخی طور پر جنگ میں غیرجانبدار ممالک سویڈن اور فن لینڈ نے بھی نیٹو میں شامل ہونے کا اظہار کیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ پیوٹن کی اولیگارک حکومت (چند امرا کی حکومت) اپنی نوآبادیاتی خواہشات کو سابقہ سوویت یونین کی جگہ قائم کرتے ہوئے قفقار اور یوریشیا کے علاقوں کے وسائل کو ہتھیانے کا ایک بہانہ ہے۔ جس کا شرکت دار چین بھی ہے۔ اس حملے کے پیچھے روس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کی وجہ اولیگارک(امرا) کے معاشی اور سیاسی مفادات کو مزید تقویت دینا ہے۔ دوسری طرف شمالی امریکہ اور یورپین سامراج کا یوکرین کا دفاع کرنے کابہانہ بھی یہی معاشی اور سیاسی مفادات ہیں۔اس وقت پیوٹن لال پیلا ہو کر یہ موقف اختیار کر رہا ہے کہ 2014 میں نیٹو طاقتوں نے یوکرین میں بغاوت کروا کر ایک ناجائز سیاسی حکومت قائم کی، پیوٹن اور اُس کے حواری Maidan (میدان) کی عوامی بغاوت کو ایک سازش قرار دیتے ہیں جو انقلابی قیادت کی کمی کے باوجود اجارداریوں کے روس نواز صدر Yanukovich (یانوکووچ) کے آمرانہ اور نیو لبرل جبر کا پانچ ماہ تک سامنا کرتے رہے۔ بے شمار عزیزو اقارب کی لاشیں اٹھائیں لیکن یانوکووچ کو بالا آخر ملک سے بھاگنے پر مجبور کیا۔آخر کار انقلابی قیادت کی غیر موجودگی کی وجہ سے جمہوری ردعمل کا خاتمہ ایک امیر تاجر اور چاکلیٹر Poroshenko(پوروشنکو) کی بورژوا حکومت سے ہوا۔ اگلے انتخابات میں Zelensky(زیلنسکی) اقتدار میں آیا۔ جس نے آئی ایم ایف اور پوری یورپی یونین کے ماتحت ہونے کی تصدیق کی۔ لیکن 2014 سے 2022 تک وبائی بیماری کے باوجود محنت کشوں نے اپنی طبقاتی جدوجہد کو رجعتی حکومتوں کے خلاف برقرار رکھا۔ جس سے خطے کے عوام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی جو پڑوسی آمروں پیوٹن اور بیلا روس کے صدر Lukashenko (لوکاشینکو)کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی۔

یوکرین قومی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے!

جیسے جیسے دن، ہفتے اور مہینے گزرتے گئے جنگ کے بارے میں تمام پیشنگوئیاں اور خرافات منہدم ہوتے گئے، خواہ وہ پیوٹن کی حکومت کی طرف سے ہوں یا سامراجی طاقتوں کی طرف سے۔ یوکرین کی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ ابتدائی دنوں میں ان کا خیال تھا کہ ان کی شکست قریب ہے۔ بہت سارے سرکاری ذرائع اس کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکی سفیروں کی طرف سے باربار زیلنسکی کو بیرون ممالک پناہ لینے اور جلاوطن حکومت قائم کرنے کی پیشکش ہوتی رہی۔ نیوز نیٹ ورکس نے لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہونے اور ملک چھوڑنے والے پناہ گزینوں کی تصاویراور ویڈیوز پر تو جہ مرکوز کرنے کے ساتھ اس واقعہ کو بھی ریکارڈکیا ہے جس نے سامراج اور سرمایہ دار حکومت کی آنکھیں کھول دیں، کس طرح کیف اور دیگر شہروں میں مختلف عمرکے محنت کش دلیرانہ اجتماع کرتے ہوئے مسلح اور غیر مسلح کھڑے حملہ آور فوجیوں کا دفاع کر رہے تھے۔ محنت کش عوام نے خود رکاوٹیں اور علاقائی دفاعی حصار بنائے جو کہ ایک لمبی پگڈنڈی کی طرح پھیلے ہوئے ہیں اور کچھ ہی عرصے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں اپنی آزادی اور عزت کیلئے لڑنے والے گروہ بنا لیے۔

رضا کاروں پر مشتمل اس مزاحمت نے غیر مسلح دستوں کیلئے ہتھیاروں کا مقابلہ کرتے ہوئے حملہ آور ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ مولوٹوف کاک ٹیلوں (وہ بوتلیں جن میں آگ بھڑکانے والا مواد ہو) سے کیا۔ اس کی ہمارے پاس کیف شہر اور مضافاتی علاقوں سے براہ راست شہادتیں ہیں۔ جہاں لوگوں نے جمع ہو کر ہتھیاروں کا مطالبہ کیا اور بہت ساری جگہوں پہ ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا۔ ہر محلے میں جاسوس ایجنسیوں کا پتہ لگانے کیلئے گشت اور محافظ کمیٹیاں منظم کرتے ہوئے بہت سارے اُن جاسوسوں کو پکڑا جنہیں پیوٹن نے مہنیوں پہلے بمباری کے اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ترتیب دیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ کمیٹیاں،علاقائی طور پر باقاعدگی سے یوکرائنی فوج کے ساتھ ضم ہوتی گئیں۔ جیسے جیسے مزاحمت آگے بڑھی ویسے ویسے قابضین کو بیلا روسی سرحد کی طرف بھاگنا پڑا۔ قابضین کی ایلیٹ فورسز میں بے شمار ہلاکیتں ہوئیں اور انھیں اپنے پیچھے بے شمار فوجی سازو سامان کا ایک بڑا حصہ چھوڑنا پڑا۔
وہ علاقے جو یوکرینوں نے واپس حاصل کیے وہاں قابضین کی بربریت اس طرح سامنے آئی، ہزاروں سویلین کی لاشوں کی خوفناک دریافت۔جنہیں سروں کے پیچھلے حصوں میں گولیں ماری گئی تھی۔ بہت ساروں کے ہاتھ پیٹھ کے نیچے بندھے مختلف کوٹھریوں کے اندر مردہ حالت میں پائے گئے جہاں انہوں دوران تفتیش رکھا گیا تھا۔ آج پوری دنیا قبضے کی اس گھناونی حقیقت کو سمجھ سکتی ہے۔ وہ حملہ جس کی دلیل یہ تھی کہ کیف کی نازی حکومت سے لوگوں کو آزاد کرو انے جا رہے ہیں،عدم دلیل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یوکرین میں دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت کی جارحیت کے خلاف قومی آزادی کی جنگ چھڑ چکی ہے۔

یوریشیا: عالمی طبقاتی جدوجہد کا مرکز

یوکرین کی سر زمین پر جنگ طویل ہو چکی ہے جو پیوٹن کی حکومت اور سامراجی پیشنگوئیوں کو رد کر رہی ہے، کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس کا مرکز طاقتور ورکز اور عوامی مزاحمت پر ہے جو اپنی سرمایہ دار قیادت کی طرف سے مقررکردہ حدود سے تجاوز کر کے حملے اور مقابلہ کرتے ہیں۔ لا محالہ یوکرین کی جنگ کے طویل ہونے اور محنت کش عوام کی اٹوٹ جنگ کی خواہش نے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ نیٹو کے درمیان سامراجی تضادات کو تیز کر دیا ہے جس سے عالمی نظام کے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عدم استحکام نہ صرف مغربی دنیا بلکہ دوسرے براعظموں میں بھی پھیل رہا ہے اس طرح ہم فرانس میں عام ہڑتال،برطانیہ میں ہڑتالوں کی لہر سمیت پوری دنیا میں تیل اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ ہم مختلف خطوں،خاص طور پر نوآبادیاتی ممالک میں جدوجہد کے ساتھ شدید کشمکش کو سامنے آتا دیکھ رہے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایکوادوڑاور پیرو میں موجود تصادم ہمارے سامنے ہیں۔
امریکی اور یورپی سامراج اس جنگ کو اپنے ہتھیار بنانے کیلئے استعمال کر ررہے ہیں۔ بائیڈن اور یورپین حکومتیں جنگ کو اپنی سامراجی فوجوں کو دوبارہ مسلح کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔ اس بہانے سے اپنے ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرتے ہوئے یوکرین کو فوجی سامان کی فراہمی تاخیر کے ساتھ ٹوکن کی حد تک دی جا رہی ہے۔ نیٹو کی اس طرح کی امداد پر اُس کے سامراجی کردار کی مذمت ہونی چاہیے۔ نیٹو کبھی بھی یو کرین کے لوگوں کی ضرورت کے ہتھیار مہیا نہیں کر رہا بلکہ وہ ہتھیار دتیا ہے جو ناکارہ اور مقداری حوالے سے انتہائی کم ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ نیٹو یوکرین کے لوگوں کو کبھی برابری نہیں دینا چاہتا بلکہ ان سے دوسرے درجے کے اتحادی کے طور پر برتاؤ کر رہا ہے۔اس جنگ میں امریکی سامراج اور نیٹو باقی سامان کے ساتھ متروک ہتھیار کم مقدار میں اس لیے فراہم کر رہا ہے تاکہ تنازعات کے انتظام کیلئے اُس کے اپنے منصوبوں کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو سکے۔ سامراج اس وقت یوکرین کے بے بس عوام کی امداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے سامراجی فوجوں، ہتھیاروں اور فوجی اخراجات میں اضافہ رکرنا چاہتا ہے۔ جس سے سماجی پروگراموں میں کٹوتیاں کرکے مزدوروں سے قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ یہ جنگ عالمی نظام اور سامراجی بالادستی کے بحران میں اضافہ کر رہی ہے۔ بشمول 2023 نیٹو اپنے بجٹ میں مسلسل آٹھویں بار اضافہ کر رہا ہے۔اس بار 2022 کے بعد سے سویلین بجٹ کیلئے 27.8 اور فوجیوں کیلئے 25.8 کی تاریخی چھلانگ کے ساتھ نیٹو ممالک اپنے جی ڈی پی کے فوجی اخراجات میں 2 فیصد تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔ 2014 سے فوجی بجٹ کی جو رسمی وابستگی تھی جنگ کے آغاز سے اُس کے تناسب کو دوگنا کر دیا گیا ہے۔ آج نیٹو میں موجود بہت سارے ممالک یہ عزم رکھتے ہیں کہ فوجی بجٹ 2.5 سے 3 فیصد تک بڑھایا جائے۔دوسری طرف یورپی یونین میں موجود کچھ فوجی خودمختاری کے خواہاں ممالک نے امریکہ کے مقابلے میں مشترکہ تعاون کے وسیع تر منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے 15 فیصد بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے یورپی دفاعی ایجنسی کو بحال کیا ہے۔
آج یوکرائنی مزاحمت کیلئے مادی امداد کا انحصار فوجی بجٹ میں اضافہ قطعی نہیں ہونا چاہیے جیسکہ سامراج پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سامراج نیٹو حکومتوں کے تمام فوجی بجٹ اور خود کو یوکرائنی عوام کے حقیقی اتحادی اور امن کے حامیوں کی طرف سے پیش کردہ تمام کوششوں کی واضح طور پر مخالفت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قابض فوج کو شکست دینے کیلئے مزاحمت کرنے والوں کو غیر مشروط طور پر اسلحہ بھیجا جائے۔
دوسری طرف ہم یورپ، امریکہ اور باقی دنیا کے محنت کش طبقے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کی مزاحمت کو زیادہ سے زیادہ مادی امداد دیں۔ ہم طبقاتی آزادی کے اصولوں کے ساتھ فعال یکجہتی کی اپیل کرتے ہیں۔ دنیا بھر کا محنت کش طبقہ خود کو اپنی حکومتوں سے الگ ہو کر موجودہ تنازعہ میں نیٹوکی براہ راست مداخلت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور آئی ایم ایف کی طرف سے ترقی کے نام پر تعمیر نو اور قرض کی مخالفت کریں۔ ہم سامراجی فوجوں کی مالی امداد میں محنت کش طبقے کی شرکت کو مسترد کرتے ہیں۔

ماسکو کے حملہ آوروں کے خلاف کیف کا دفاع

جنگ کے وقت سے شروع ہونے والی تبدیلیوں سے یوکرین میں طبقاتی جدوجہد کے بڑھتے ہوئے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ محنت کش طبقہ اگلی صفوں میں اپنی جانیں قربان کر رہا ہے۔ جہاں اسے بعض اوقات پیچھے سے اپنی فوجیں بھی نشانہ بناتی ہیں۔ یہ وہی محنت کش ہیں جو اپنے گھروں سکولوں اور ہسپتالوں پر مسلسل بمباری سے مرنے والوں اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ مستقل شہادتیں برداشت کر رہے ہیں۔ضروری انفراسٹرکچر کی تباہی روزانہ بجلی کی فعالی میں رکاوٹ، پانی کی بار بار کمی اور نکاسی ِ آب کی وجہ سے حالات ِ زندگی انتہائی خراب و اجیرن ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف بنیادی ضرورت کی مصنوعات انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک افراط زر کی شرح میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوجی حملوں کی وجہ سے اجرتوں میں کٹوتی، معطلیاں و برطرفیاں بنیادی حقوق اور سماجی حاصلات کے حالات مزید خراف ہو گئے ہیں جو کہ محنت کش طبقے نے برسوں پہلے حاصل گئے تھے۔ حال ہی میں زیلنسکی کے ذریعے محنت کشوں کے خلاف نئے قوانین لائے گئے جن کے ذریعے سرمایہ داری کی خدمت کرتے ہوئے محنت کشوں کی مشکلات میں اضافہ کیا گیا۔ یہ نوآبادیاتی لوٹ مار اور بد عنوانی محنت کشوں کی سماجی قوت اور مزاحمت کو مارتی اور کمزور کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں منظور شدہ قوانین نے فوج میں کمانڈ کے عمودی ڈھانچے کو سخت کر دیا ہے۔ جس کے تحت رینک اور فائل سپاہوں کیلئے سخت سزائیں ہیں اور بھرتی کے عمل پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ محنت کش طبقے کے سب سے زیادہ استحصال زدہ لوگ جنگی محاز پر نئے فوجیوں کی جگہ عطیہ دہندگان کے طور پر کام کر رہے ہیں جس سے سماجی تناؤ بڑ ھ رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بلند جنگی حوصلے اور فتح حاصل کرنے کا عزم غالب ہے کیونکہ یوکرین کا محنت کش طبقہ جانتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کیلئے لڑ رہا ہے۔
تاہم عوام کا حکمرانوں کی زیادتی کے خلاف غم و غصہ بھی بڑھ رہا ہے چونکہ ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہر سطح پر بد عنوانی کر رہے ہیں جن میں بہت سارے اسکینڈل سامنے آ چکے ہیں۔جس کے جواب میں باہم مجبوری زیلنسکی کو اپنے بہت سارے حکومتی عہدیداروں کو ہٹانا پڑرہا ہے۔ حال ہی میں وزیر دفاع زیزنیکوف کی کرپشن سامنے آنے کی وجہ سے اُس سے استعفی لیا گیا۔ جب ملک غیر مساوی جنگ کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہا ہے،امرا کے بہت سارے گروپس لوٹ مار، قبضوں اور قدرتی وسائل کی ملکیت کی نئی تقسیم میں لگے ہوئے ہیں۔ فوج کو چھوڑ کر تما م اداروں سے لوگ بدزن ہو رہے ہیں۔عدم اعتماد کی فضا ہے۔جہاں حملہ آوروں کے خلاف محنت کش عوام میں قومی نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں مراعات یافتہ یوکرینیوں کے خلاف بھی طبقاتی نفرت کا اظہار ہو رہا ہے۔
یوکرائنی محنت کشوں کی فتح اور بائیڈن مکتب فکر کا امن قائم کرنے پر زور دنیا
موسم گرما اور خزاں کے دوران kharkov کھرکوف کے علاقے میں یوکرانئی مزاحمت کاروں کی نمایاں پیش رفت جہاں روسی فوج گولہ بارود، ٹینکوں اور دوسرا فوجی سامان چھوڑ کر بھاگنے پرمجبور ہوئے۔ اس پوری جنگ کے مختصر عرصے میں علاقے واپس لینا یوکرانئی مزاحمت کاروں کی سب سے بڑی فتح تھی۔ ڈینیپر کے دائیں کنارے سے 20,000 روسی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ہی خرسن شہر اور بحیرہ اسود تک پہنچنے والی زرخیرزمین کی اہم پٹی واپس لے لی گئی اس طرح ڈون باس میں یوکرانئی مزاحمت کاروں نے کچھ معمولی پیشرفت بھی حاصل کی ہے۔ روس جو مارچ 2022 میں یوکرین کے 30 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے آیا تھا۔ آج اس کا قبضہ یوکرین پر 15 فیصد سے بھی کم ہے۔یوکرین کی مزاحمت کار عوام کی ان تمام کامیابیوں کی وجہ سے روسی علیٰ کمان کے اندر ایک بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔ جس سے پیوٹن حکومت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں تاہم مناسب ہتھیاروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے قابض فوجیں ابھی تک یوکرین میں موجود ہیں۔عوامی مزاحمت کو دیکھ کر سامراجی ممالک اور بالخصوص امریکی سامراج کی طرف سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے دوگنا دباؤ ہے۔

مظلومیت اور جبر کا شکار ہونے کے باوجود روسی عوام کاایک حصہ جنگ کو مسترد کر رہا ہے

ستمبر2022 کی فوجی بھرتیوں کے دوران ایک ہنگامہ برپا ہوا جس نے مزدوروں اور عام مقبول عوام کے رویوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔اگرچہ اس کا اظہار حکمرانوں کی طرف سے کچھ یوں کیا جا رہا ہے کہ عوام جنگ کے غیر فعال ہونے اور دفاعی کاروائیوں کو کم کرنے اور اپنے فوجیوں کی قربانیوں سے دل برداشتہ ہو رہے ہیں۔ ان واقعات کو لیکر فوجیوں اور نئے بھرتی ہونے والوں کی ماؤں نے ایک ہنگامہ برپا کرتے ہوئے شاندار کردار کے ساتھ بھرتیوں کے غیر معمولی طریقہ کار کو رکوایا۔ دولاکھ نئی بھرتوں کا جواب دیتے ہوئے ملک سے تقریباً50 لاکھ سے زیادہ لوگ جو سروس کی عمر میں تھے گھروں سے فرار یا روپوش ہو گئے تاکہ توپوں کا چارہ نہ بن سکیں۔ انتہائی کم تعداد میں روسی محنت کش جنگ پر جانے کو تیار ہو رہے ہیں۔ اشاعت پر شدید سنسر شپ کے باوجود جو خبریں سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق ہزاروں فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان فوجیوں میں زیادہ تر مظلوم غیر روسی قومیتوں کے افراد ہیں۔ جو بڑے شہروں یا دارالحکومت سے دو ر دراز دیہاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ہزاروں روسی فوجیوں کا بغیر مذمت کے یوکرین کے مسلح لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا حکمرانوں کی دلیل سے پردہ فاش کر رہا ہے کہ روس کی طرف سے خصوصی فوجی آپریشن درحقیقت نو آبادیاتی جارحیت اور لوٹ مار کی جنگ ہے جس کا مقابلہ دھرتی کے مزاحمت کاروں سے ہے۔
روسی فیڈریشن اور اُس کی مسلح افواج کی حالت دیکھ کر یوکرنییوں کا بے شک غیر فعال لیکن بڑے پیمانے پر ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس طرح یوکرائنی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے دنیاکی دوسری بڑی فوجی طاقت کی نزاکت ہمارے سامنے عیاں ہو چکی ہے۔ پیوٹن اپنی پرائیویٹ ملٹری کمپنی ویگنر (PMC) پر انحصار کر رہا ہے جس طرح اُس نے پہلے شام اور افریقہ کی جنگوں پر انحصار کیا، جسے کرائے کے فوجیوں اور سابق سزا یافتہ مجرموں نے بنایا ہے۔ اس کمپنی کا مالک ایک مافیا اولیگارچ (امیر) ہے جیسے پوٹن کا پاورچی کہا جاتا ہے۔ جس کا آج کل روسی فوج کے کمانڈر اور وزیر دفاع کے ساتھ بالادستی پر تنازعہ چل رہا ہے۔

موسم سرما نے فوجی تعطل لایا

دفاعی اور جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی میں سامراجی تاخیر اور بلیک میلنگ کے نتیجے میں پوٹن کسی حد تک جنگ کی نوعیت کو تبدیل اور منظم کرنے میں کامیاب ہوا۔ تقریباًپورے یوکرائنی علاقے پر بلا روک ٹوک گولہ باری کے ساتھ شہری آبادی کا قتل عام کرتا رہا تاہم موسم سرما کے کچھ مہینوں تک سارے محازوں پر تعطل رہا۔ ڈونباس کے قصبے بجموت کی لڑائی جس پر اب بھی یوکرین کا کنڑول ہے، جو سب سے نمایاں مثال ہے، بے شک حملہ آوروں کی طرف سے کچھ پیش رفت ہوئی جیسے کہ سولیدار کے قصبے پر قبضہ جو پیوٹن اور ویگنر (PMC) کیلئے اسڑٹیجک سے زیادہ علامتی ہے کیونکہ قابضین پے درپے شکستوں اور فوجی آپریشنز میں ناکامیوں میں گِرے ہوئے تھے۔ یہ ایسی ناکامیاں ہیں جن کی وجہ سے حلب کا قصائی کہلانے والے جنرل سورووکن کو فارغ کر دیا گیا۔ اس چھوٹے سے قصبے پر قبضہ کرنے کیلئے شدید ؒلڑائی کرنی پڑی جس مین ہزاروں فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
سامراج کی طرف سے ٹینکوں اور دیگر اسلحے کی ترسیل انتہائی تاخیرمیں رہتی ہے یہ واضح کیے بغیر کہ اسلحہ میدان میں کب آئے گا یا آئے گا بھی نہیں۔ شعوری طور پر پیوٹن کو پورا جنوری تحفے کے طور پر دیا گیا ہے تاکہ وہ موسم بہار مین جوابی کاروائیوں کیلئے اپنی فوجوں کو دوبارہ منظم کر سکے۔ یہ اتفاقی طور پرنہیں ہے کہ ہم سامراجی بلیک میلنگ کے اس نئے دور کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس کے مطابق امریکی سامراج اور اُس کے فوجی ماہرین یوکرین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے قابضین کیلئے رعایتیں قبول کرے لیکن یوکرین کے محنت کش عوام کی مزاحمت اور حوصلہ، پیوٹن کے منصوبوں اور سامراجی پالیسی جو زیلنسکی کی قیادت میں عملی جامہ پہنانے کی تیاری کر رہے ہیں،میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

امن پسند پیو ٹن؛یورپی یونین، نیٹو اور امریکی سامراج کی خدمت کرتے ہیں!

اس فریم ورک میں آج امن پسند شعبے جو روس کے علاوہ تمام دنیا میں ”جنگ نہیں“ کے نعرے لگا رہے ہیں، بنیادی طور پر پیوٹن کے نام نہاد نعرے کی حمایت کر رہے ہیں۔بہت سارے جو نہ پیوٹن اور نہ نیٹو کے نعرے لگاتے تھے اب بدل کر ”یوکرین کو ٹینکس مہیا نہ کرو“ کے نعروں میں تبدیل کر چکے ہیں۔وہ یوکرین کی سر زمین پر ہزاروں روسی ٹینکوں کی موجودگی پر خاموش ہیں،اس سے پتہ چلتاہے کہ وہ کیا ہیں! سامراج اور نیٹو کا بایاں ہاتھ! کیونکہ اُنھیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ یورپی یونین بالواسطہ طور پر پیوٹن کی مالی معاونت کرتی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد نیٹو کے بیشتر رکن ممالک کی تیل اور گیس کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی یونین روسی تیل کی خریداری کر کے پیوٹن کو یومیہ 640 ملین یورو دیتی ہے۔
بائیڈن، سنک اور میکرون روس کو عسکری اور اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوب مکاری کے ساتھ پیوٹن کو اکسا کر فوجی آلات کا استعمال کرواتے ہوئے یوکرنیوں کا خون بہا رہے ہیں۔ دوسری طرف یوکرین کو فوجی امداد نا ہونے کے برابر بھیجی جا رہی ہے۔ وہ آج بھی زیلنسکی پر جنگ بندی کو قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں اور ایک ایسا امن چاہتے ہیں جو سامراجی مفادات کو پورا کرے۔ جو پیوٹن حکومت کے یوکرین کے ایک علاقے پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے بے شک یور یشاکے لوگوں پر ظلم جاری رکھنے کی اجازت دے۔ یہ امن کی آڑ میں ایک سازش کی جا رہی ہے۔ یوکرین کی مزاحمت کو دھوکہ دے کر مستقبل کی تعمیر نو کے منصوبوں کی لوٹ مار کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ یقینی طور پر یوکرین کے عوام کسی بھی غیر ملکی سے زیادہ امن کے حمایتی ہیں،لیکن یاد رہے کہ 85 فیصد عوام کبھی بھی کسی یوکرائنی حصے کا اتحاد یا پیوٹن کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے والے کسی بھی امن معاہدے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔
یوکرین میں قومی آزادی کی چھیڑی جانے والی جنگ کا واحد منصفانہ امن وہ امن ہے جو یوکرین کے علاقائی اتحاد جو روس،یورپین یونین اور امریکہ سے مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

اگر محنت کش طبقہ مزاحمت کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے تو فتح ممکن ہے!

یوکرین کے مسلح مزاحمت کار محنت کش عوام بہت ساری جگہوں پر نیم نوآبادیاتی حکومت،سامراجی کارپوریشنز کی شرکت دار اور مختلف ملکی امرا کے گروپوں کی نمائندہ حکومت کے ساتھ جھڑپوں میں آ چکے ہیں۔ فوجی محاز آرائی کی سیاسی قیادت زیلنسکی حکومت یوکرائنی عوام کی فتح کے خلاف سازشیں کرتی ہے۔ جتنی زیادہ قربانیاں اور اموات ہو چکی ہیں یا آگے ہوں گی، عوام کی طرف سے کسی بھی امن معاہدے کو ماننا اور ہتھیار ڈالنے سے انکار اتنا ہی زیادہ ہو گا۔ اس وقت محنت کشوں کو چاہیے کہ ایک انقلابی پروگرام کے گرد حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی قیاد ت اپنے ہاتھ میں لیں۔
ہمیں محنت کش طبقے کی سماجی آزادی کیلئے سیاسی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ قومی آزادی کی جنگ کے ضروری اور ممکنہ امتزاج کو سامنے رکھنا چاہیے اور یہی وہ امتراج ہے جس سے KGB کا سابق کرنل اور موجودہ روسی صدر پیوٹن ڈرتاہے۔یلغار کے آغاز کے وقت پیوٹن نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ یوکرین ولادیمیر لینن کی ایجاد ہے کیونکہ یوکرین کو ایک ریاست یا آزاد ملک ہونے کا نہ ہی احساس ہے اور نہ ہی روس کے ساتھ ملحقہ طورپر ریاست رہنے کا حق ہے۔ وہ ریاست جو روس کو مزاحمت دے۔ پیوٹن کی دلیل اُس کے الفاظ زارسٹ یادوں کو تازہ کر رہے ہیں لیکن دنیا اُس یوکرین کی آزادی کے دفاع پربات کر رہی ہے جس یوکرین کی آزادی 1917 میں سوویت یونین کے اقتدار سے شروع ہوئی تھی اور وہی حقیقی آزادی تھی جب اقتدار محنت کشوں کے ہاتھ میں تھا۔جب یوکرائنی محنت کش کسان اور بالشویک قومی حق خودارادیت کی واضح پالیسی کے ساتھ آگے بڑھے تھے۔

یوکرین کیلئے عبوری پروگرام

امرا اور حکمران طبقے کے مفادات کیلئے محنت کشوں کی بے لوث قربانیاں بند کرو! ایک طرف ہزاروں محنت کش جنگ کا دفاع کرنے کیلئے خندقوں میں موجود ہیں تو دوسری طرف کام کی جگہوں پر نام نہاد ورکرز کمیٹیاں جو زیادہ تر لیبر اشرافیہ پر مشتمل ہیں محنت کشوں کے جنگ مخالف جنون کو دیکھ کر انھیں کام سے معطل کر رہی ہیں یا ان کی اجرت آدھی کر رہی ہیں، محاز میں جانے والوں کو کم تنخواہیں مل رہی ہیں ان کے اہلِ خانہ سردی میں بے یارو مدد گار پڑے ہیں۔ جب زیلنسکی کے وزراء لگژری کاروں میں جاتے ہیں یا سپین میں کرسمس گزارتے ہیں اور یہاں تک کہ ایم پی جولیاتیموشینکو دبئی کے ساحل پر دھوپ سینکتی نظر آتی ہے۔اسلئے فوری طور پر ملک کے تمام وسائل قابضین کے خلاف فوجی فتح کیلئے مختص ہونے چاہیے۔ فوجیوں اور علاقائی کمیٹیوں کے ارکان کیلئے وسائل کا استعمال ترجیحاتی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ پوری تنخواہوں کے ساتھ صنعت میں موجود تمام لیبر فورس کو فوجی دفاع کیلئے تیار کیا جائے!
قومی دفاع سے منسلک تمام اداروں کو قومیاتے ہوئے ورکرز کے کنٹرول میں دیا جائے!
فوجی کمانڈروں کی من مانی بندکی جائے!
خندقوں میں اپنی جان خطرے میں ڈالنے والوں کا احترم کیا جائے!
علاقی دفاع کی خود مختاری کا احترام کیا جائے!
اب تک کی تمام فوجی فتوعات صرف اور صرف یوکرین کے محنت کش عوام کی قربانیوں اور کوششوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ مغربی ٹی وی پر دکھائے جانے والے تمام جدید اور طاقتور ہتھیاروں میں سے صرف چند ہی آئے ہیں اور وہ بھی تاخیر کے ساتھ۔ ہم یوکرین کیلئے ہتھیاروں کا مطالبہ کرتے ہیں!
مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی ہتھیاروں کی تمام خریداریاں رجمنٹوں کی منتخب فوجی کمیٹیوں کے کنٹرول میں دی جائے!
قابضین کے خلاف جنگ کے تمام ذرائع اور وسائل، جو منافع یا بد عنوانی کی غرض سے سرکاری خزانے کی لوٹ مارہورہی ہے بند کی جائے! موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف لڑنے میں ناکام ہے صرف ان سرکاری اہل کاروں کو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جاتا ہے جن کی لوٹ مار عوام کے سامنے آتی ہے اور دوسرے کرپٹ، نااہل اور بد عنوان اہلکار ابھی تک بڑھ چڑھ کر کرپشن کر رہے ہیں۔وقتی طور پر ان تمام لوگوں پر سنسر شپ لگاتے ہوئے بد عنوانی اور نااہلی کا کسی حد تک خاتمہ ہونا چاہیے۔ یوکرین کے اند ر موجود وسائل اور وہ وسائل جو پوری دنیا کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر فوج، غریب افراد،پینشنز اور زخموں کیلئے مہیا کئے ہیں ان سے فوری طور پرمستحق کی امداد کی جائے!

غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی بند کی جائے!

اس وقت یوکرائنی ایک آمریت کی طرف سے نسل کشی اور قبضے کی جنگ کا دفاع کر رہے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یوکرین کے آئی ایم ایف، یورپین بنیکوں اور دوسرے اداروں کے تمام قرضے فوری منسوخ کئے جائیں!
آئیے ہم سامراجی طاقت کی منافقت کا خاتمہ کریں جو سود خوری کرتے ہوئے یوکرین کے عوام کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔نیٹو یا یورپی یونین کی رکنیت نہیں! چونکہ دورانِ جنگ نیٹو نے مادی امداد میں ہمیشہ تاخیر کی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیٹو یوکرائنی مزاحمت کی فوری ضرورتوں کو قطعی پورا نہیں کر رہی۔امداد میں تاخیر اس چیر کی غمازی کر رہی ہے کہ یورپی ممالک کے حکمرانوں کے مفادات مختلف ہیں اور دوسری طرف امریکی سامراج کا حتمی مقصد یوکرین پر روسی حکومت کے تسلط کو واپس لانا ہے۔ تاکہ امریکہ کو یورپی یونین کے تسلط کے خلاف ایک قوت ہمیشہ میسر رہے۔ زیلنسکی یورپی یونین اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے تعمیر نو کے منصوبے، یوکرانئی ریاست کی نیم نوآبادیاتی حیثیت کو مزید گہرا کر رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ حقیقی طور پر متحد آزاد یوکرین کی علاقی سالمیت کا دفاع کی جائے۔
یوکرین میں موجود پیوٹن حکومت سے وابستہ تمام اثاثوں کو ضبط کیا جائے! یہ ایک نا سمجھنے والا تضاذ ہے کیونکہ یوکرین پر روس کے حملے کے باوجود روسی کمپنیوں کے اثاثے ضبط نہیں کئے گئے۔ اگر روسی کمپنیوں کے اثاثے ضبط ہوتے ہیں تو اس سے یوکرین پر بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہو گا اور بڑی تعداد میں وسائل میسر آ سکتے ہیں جس سے عام عوام اور فوجیوں کے لیے مناسب حالات ممکن ہو سکتے ہیں۔ یوکرین کے محنت کش طبقے کی آزادسیاسی تنظیم تعمیر کی جائے۔ جس کی اولین ذمہ داری یورپی یونین اور عالمی محنت کشوں کے ساتھ اتحاد اور بلخصوض بیلا روس اور روس کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل ہو۔ یہی طریقہ کار قومی دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے فتح کی طرف لے جائے گا۔ یوکرین کے محنت کشوں کی مزاحمت کو مضبوط کرتے ہوئے ہمیں بین الاقوامی محنت کش طبقے کی تمام موجودہ یکجہتی کے اقدامات کو سامنے لانا چاہیے۔جیسا کہ بین الاقوامی ٹریڈ یونین یکجہتی نیٹ ورک(ITUSNW) پورپی یوکرین یکجہتی نیٹ ورک(EUSNW) اور USA یوکرین سالیڈیرٹی نیٹ ورک!

SHARE