Wednesday, March 25, 2026
Home World ایران کے محنت کشوں کو ایرانی انقلاب کی جانب پیش قدمی کرنے...

ایران کے محنت کشوں کو ایرانی انقلاب کی جانب پیش قدمی کرنے پر سرخ سلام

ایران کی ہر بغاوت ہمیں واضح طور پر یاد دلاتی ہے کہ ملا اقتدار میں رہنے کے لیے ایران کو خون میں نہلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔

ایران کی ہر بغاوت ہمیں واضح طور پر یاد دلاتی ہے کہ ملا اقتدار میں رہنے کے لیے ایران کو خون میں نہلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔
مزدور انقلاب(انڈیا)
20 جنوری 2026
28 دسمبر کو ایران کے بازاریوں (چھوٹے تاجر، دکاندار، کاروباری طبقہ) نے گرتی ہوئی معیشت اور بے قابو مہنگائی کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کیا۔ یہ ہڑتال اب اسلامی حکومت کے خلاف ایک ملک گیر بغاوت میں تبدیل ہو چکی ہے۔
تہران سے لے کر شیراز، اصفہان اور یزد تک ایران کا ہر شہر عوامی تحریک کی لپیٹ میں ہے۔ سڑکوں پر دسیوں ہزار، بلکہ شاید لاکھوں افراد احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ تعداد محض بازاریوں کے سہارے ممکن نہیں ہوئی، بلکہ یہ اسی وقت ممکن ہوئی ہے جب ملک کے نوجوانوں اور محنت کش طبقے کی وسیع پرتیں اس میں شامل ہو ئی ہیں ۔
ایران میں جاری یہ تحریک اپنی وسعت اور شدت کے اعتبار سے غیر معمولی ہے، اور ماضی قریب کی تمام تحریکوں سے کہیں بڑی ہے۔ یہ بغاوت شاید گزشتہ پچاس برسوں سے بلا روک ٹوک حکمرانی کرنے والے ملاؤں کی طاقت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
ایران جنوبی ایشیا میں ابھرنے والی قبل از انقلابی تحریکوں کی ایک کڑی ہے، جن کا آغاز سری لنکا سے ہوا اور تازہ مثال نیپال کی ہے۔ ان میں سے بنگلہ دیش اور نیپال کی تحریکیں حکومتوں کو گرانے میں کامیاب ہوئیں۔ ایران میں بھی ملاؤں کی حکومت کا یہ انجام ہو گا یا نہیں، یہ تو وقت بتائے گا، مگر موجودہ تحریک میں ایسی صلاحیت ضرور موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کی جانب سے اس تحریک کو روکنے کیلئے بے مثال تشدد سامنے آ رہا ہے۔
غیر سرکاری ذرائع کے مطابق، ایران میں ریاستی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں زخمی اور قید میں ہیں۔ پورے ملک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے، جس سے ایران اور دنیا کے درمیان رابطہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
ان مظاہروں کے پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی سامراجی طاقتوں کی پس پردہ سازشوں کو۔ ایران میں قبل از انقلابی صورتحال عالمی سرمایہ دارانہ بحران کے تناظر میں ابھری ہے، یہ بحران اس وقت بالخصوص مغربی اور جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ جغرافیائی اور تاریخی طور پر ایران مغربی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران میں سرمایہ داری کے خلاف کامیاب انقلاب کا فوری اثر مشرقِ وسطیٰ، خلیجی ریاستوں، وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان پر پڑے گا۔
ایران میں اسلامی بنیاد پرستی کا خاتمہ اس نوعیت کی تمام ریاستوں کو بحران میں ڈال دے گا اور سامراج کے لیے ایک نیا چیلنج بنے گا۔ محض زبانی سامراج مخالف نعروں والی تھیوکریٹک حکومت کے بجائے، سامراج کو ایک ایسے ایران کا سامنا کرنا پڑے گا جو محنت کشوں اور نوجوانوں کے کنٹرول میں ہو گا، اور جو صہیونیت اور خلیجی بادشاہتوں کے خاتمے کے لیے حقیقی طور پر پرعزم ہو گا۔
اسی لیے سامراجی طاقتیں تحریک کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہیں، جبکہ رجعتی ملا محنت کشوں اور نوجوانوں پر جبر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ایک طرف قومی رجعت، دوسری طرف امریکی سامراج—ایرانی محنت کشوں کو کامیابی کے لیے ان دونوں دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اگرچہ ایران کبھی براہ راست نوآبادیات نہیں رہا، مگر یہ سامراجی مداخلت کا تاریخی شکار ضرور رہا ہے۔ ایرانی انقلاب اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ سماجی انقلاب بھی برپا کرے اور سامراجی جارحیت کے خلاف بھی ڈٹ کر کھڑا ہو۔
ماضی کی تحریکیں
ایران کا موجودہ اسلامی نظام 1979 میں محنت کشوں اور نوجوانوں کی سامراج مخالف انقلاب سے غداری کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ غداری تُودہ پارٹی کی ناکامی کا نتیجہ تھی، جو رجعتی قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے اور کسانوں و نچلے متوسط طبقے کو جیتنے میں ناکام رہی۔ آیۃ اللہ کی قیادت نے خود کو سامراج کے خلاف ایران کے محافظ کے طور پر پیش کر کے عوام کی حمایت حاصل کی۔ جب بھی نظام بحران کا شکار ہوتا ہے، وہ قوم پرستی کا سہارا لیتا ہے—جیسا کہ سیموئل جانسن نے کہا تھا:
“حب الوطنی بدکاروں کی آخری پناہ گاہ ہوتی ہے”۔
آیۃ اللہ کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ایران ایک امریکی اتحادی عراق کے ساتھ جنگ میں جھونک دیا گیا۔ اس جنگ نے لاکھوں جانیں لیں، مگر اسی نے ملا حکومت کو مضبوط کیا۔ بعد ازاں اصلاحات کا ڈھونگ رچایا گیا۔ 2009 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد ایران میں احتجاجی تحریکیں ابھریں۔
2009 کی تحریک
2009 کی تحریک محمود احمدی نژاد کی دھاندلی زدہ انتخابی فتح کے خلاف اٹھی۔ یہ اس صدی میں پہلی مرتبہ تھا کہ ایرانی محنت کش اور نوجوان کھل کر اسلامی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ ریاستی تشدد نے تحریک کو کچل دیا۔ بعد ازاں محدود اصلاحات کی گئیں اور حسن روحانی کو لایا گیا۔
اسی دوران امریکی اقتصادی پابندیاں جاری رہیں، جنہوں نے ایران کو ایک عسکری ریاستی سرمایہ داری کی طرف دھکیل دیا۔
2017 تا 2019 کی بغاوتیں
مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی تحریکیں عام ہڑتال میں بدل گئیں۔ مہشہر میں مظاہرین پر فائرنگ کے بعد تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔ کم از کم ایک ہزار افراد قتل اور بیس ہزار گرفتار کیے گئے۔
2021 کی ہڑتالیں
2021 میں تیل مزدوروں کی قیادت میں ملک گیر ہڑتال ہوئی، جس نے ایران کی معیشت پر براہ راست ضرب لگائی۔ اجرتوں میں اضافہ، بہتر حالاتِ کار اور سستی رہائش بنیادی مطالبات تھے۔ ریاستی جبر نے ایک بار پھر تحریک کو وقتی طور پر کچل دیا۔
مہسا امینی کی تحریک
ستمبر 2022 میں کرد خاتون مہسا امینی کے قتل نے نئی بغاوت کو جنم دیا۔ یہ تحریک بھی قیادت کے فقدان اور شدید جبر کے باعث وقتی طور پر دب گئی۔
اس کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی نے وقتی طور پر ملا حکومت کو قوم پرستی کا سہارا دیا، مگر یہ فریب اب ختم ہو چکا ہے۔
نہ ملا، نہ امریکہ!
ایرانی ملا دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ ہیں۔ وہ سامراج کے خلاف نہیں بلکہ کسی بھی وقت امریکہ یا روس سے سودے بازی کے لیے تیار ہیں۔ ایران کے اندر کرد، بلوچ اور دیگر قومیتوں پر جبر کیا جاتا ہے۔ IRGC اور مذہبی اشرافیہ معیشت پر قابض ہے۔
ایرانی عوام کو دو برائیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا۔ نہ ملا سامراج کا مقابلہ کر سکتے ہیں، نہ امریکی کٹھ پتلیاں ایران کو آزادی دے سکتی ہیں۔
یہ تحریک ایرانی محنت کش طبقے کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ رجعتی آمریت سے نجات حاصل کرے اور محنت کشوں کی جمہوریت قائم کرے۔
ملاؤں کا خاتمہ کرو!
ایران کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو سلام!
IRGC اور بسیج کا خاتمہ کرو!
تیل کی صنعت پر محنت کشوں کا کنٹرول قائم کرو!

RELATED ARTICLES

(PSTU)  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی اپیل 

  11 فروری 2026 یونائیٹٹد سوشلسٹ پارٹی  کے نیشنل صدر، جوزے ماریا دے المیڈا کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت 11 فروری کو منعقد کی گی۔...

شاویزازم کا عروج اور زوال

تحریر: آئی ڈبلیو ایل-ایف آئی (IWL-FI) کی ادارت فروری 4، 2026 (اصل تحریر: ستمبر 2014 میں شائع ہوئی) دنیا بھر کی زیادہ تر بائیں بازو کی تنظیمیں...

گرین لینڈ کو ہاتھ مت لگاؤ! نیٹو کا خاتمہ کرو!

گرین لینڈ کو ہاتھ مت لگاؤ! نیٹو کا خاتمہ کرو! گرین لینڈ کی تقریباً 60 ہزار آبادی میں سے قریباً 90 فیصد افراد مقامی گرین...

Most Popular

(PSTU)  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی اپیل 

  11 فروری 2026 یونائیٹٹد سوشلسٹ پارٹی  کے نیشنل صدر، جوزے ماریا دے المیڈا کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت 11 فروری کو منعقد کی گی۔...

پھانسی گھاٹ سے عوامی اقتدار تک: مقبول بٹ کی ادھوری انقلابی وصیت

 مقبول بٹ (1938–1984)  بیسویں صدی کے اُس عہد میں ابھرے جب 1947 کا نامکمل سوال ایک مستقل سیاسی و عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہو...

 پاکستان میں خودکش حملوں کا نظریاتی و سیاسی جائزہ

محنت کش تحریک(ادارت)  6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے  ترلائی میں واقع، ایک شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں کم...

شاویزازم کا عروج اور زوال

تحریر: آئی ڈبلیو ایل-ایف آئی (IWL-FI) کی ادارت فروری 4، 2026 (اصل تحریر: ستمبر 2014 میں شائع ہوئی) دنیا بھر کی زیادہ تر بائیں بازو کی تنظیمیں...

Recent Comments