Home Pakistan آؤ مل کر بدل ڈالیں ایسے نظام کوجس کی منصوبہ بندی میں...

آؤ مل کر بدل ڈالیں ایسے نظام کوجس کی منصوبہ بندی میں ہمارا کوئی کردار نہیں!

SHARE

دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!

اب ہر صورت، ہر روز صبح، دوپہر، شام مہنگائی، غربت، لاعلاجی، بیروزگاری، لا قانونیت،دھونس دھاندلی، جبر،مظلوم قوموں کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے، کسانوں کو زراعت سے باہر نکالنے، مزدوروں کو فیکٹریوں اور خدمات عامہ کے شعبوں سے بے دخل کرنے، جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی سے وبائی امراض کے پھیلانے،محنت کش طبقے کو صنفی بنیادوں پر تقسیم کرنے،طلبہ یونین پر پابندی لگا کر غریبوں کے بچوں کو سیاست سے بے زار کرنے، ہر سال کچی بستیوں کے مکینوں کو ترقی کے نام بے گھر کرنے، قدرتی طور پر معذور لوگوں کو معاشرے میں مذاق بنانے کے خلاف بولنا فرض ہو چکا ہے۔
ہم محنت کرنیوالے مزدوروں، کسانوں، مڈل کلاس /چھوٹے سرمایہ داروں کو چاہیے کہ ہماری محنت لُوٹنے والوں کے خلاف پیپلز اسمبلیوں کے ذریعے ادا کیے گئے ٹیکسوں کا حساب مانگتے ہوئے موجودہ مسائل کا مستقل حل تلاش کریں!
محنت کش ساتھیو:
ہمارے ذہنوں میں سوال آتا ہے کہ پیپلز اسمبلیاں ہی کیوں؟
پیپلز اسمبلیاں اس لیے کہ ہماری الگ الگ سیاسی پارٹیوں، مزدوروں، کسانوں، طلبہ، تاجروں، وکلا،ڈاکٹرز،صحافیوں، اساتذہ،لیکچررز،پروفیسرز اوردیگر شعبوں کی انجمنوں سے وابستگی ہونے کی وجہ سے یہ مشکل ہے کہ فوری کسی ایک سیاسی پارٹی کے پروگرام پر متفق ہو کر موجودہ مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف لڑا جا سکے۔اس لیے ضروری ہے کہ اِن دو نقطوں پر پیپلز اسمبلیاں کی جائیں اور انہی اسمبلیوں میں نہ صرف کیمپین کا طریقہ کار طے کیا جائے گابلکہ ورکرز حکومت کی تیاری کی جائے!
ورکرز حکومت کیا ہے؟
ہم سمجھتے ہیں کہ حزب ِ اقتد ار اور حزب اختلاف میں موجود تمام پارٹیاں جو بے شک مختلف ناموں سے موجود ہیں، پر اُن کا مقصدایک ہے کہ ہر صورت اقتدار میں آ کر اس ملک کے محنت کشوں پر مزید ٹیکس لگاتے ہوئے خوب دولت و طاقت حاصل کی جائے۔ یقینی طور پر اِن پارٹیوں کی قیادت نے شایدہی کبھی اشیا خوردو نوش، پٹرول،بجلی اور گیس کے بلزاور بچوں کی فیسیں خود ادا کی ہوں۔اس لیے ان تمام پارٹیوں کے حکمران ہماری مشکلات سمجھنے سے قاصر ہیں لہذا ضروری ہے کہ اب ایک دوسرے کے ساتھ ملکر ان مشکلات کو ختم کرتے ہوئے ورکرز حکومت کے ذریعے ا وپردیئے گئے تمام شعبوں کی قیادت ملکر ملکی منصوبہ بندی میں اپنا کردار ادا کرے۔جہاں ہر ایک انسان سے صلاحیت کے مطابق کام لینا اور ضرورت کے مطابق معاوضہ ادا کرنا شامل ہو۔
ورکرز حکومت اشتراکیت پر مبنی حکومت ہو گی جس کی منصوبہ بندی میں کم از کم 95فیصد محنت کرنیوالوں کی حق حکمایت ہو گی۔ایسی حکمایت جس میں پیداوار کرنے والے اور پیداوار استعمال کرنے والے کا تعلق فیملی کی طرح ہو۔
جہاں مزدور کو یہ نہیں لگے گا کہ اُس کی محنت کوئی اور ہتھیا کرلے جائے گا۔
جہاں کسان کا زمین کے ساتھ رشتہ یقینی طور پر روح و جسم کا ہو گا۔
جہاں نوجوان کو تعلیم یاداشتوں کے امتحانات پاس کرکے جبر اً یا مرضی کے برعکس نوکری نہیں کرنی پڑے گی۔
جہاں ایک تعلیمی یافتہ مڈل کلاس کو صبح شام خوش آمدی یا بڑے لوگوں کا منافع بڑھنے کیلئے مارکیٹنگ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
آئیں ان سوالات پرپیپلز اسمبلیوں میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی اداروں، سرمایہ داروں اور اُن کے نمائندہ حکمرانوں کا محاسبہ کریں۔
1۔ کیا ہم آئی ایم ایف کے قرضوں پر اقساط، سود اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے رقم ادا نہیں کر چکے؟
2۔کیا آئی ایم ایف کے قرضوں کا فائدہ پاکستانی عوام کو ہوا،یا پاکستان کے حکمرانوں،سرمایہ داروں یا آئی ایم ایف میں موجود اُن سامراجی کمپنیوں کو ہواجو پہلے آئی ایم ایف کے ذریعے خاص طور پر غریب ممالک کو قرضے فراہم کرتی ہیں اور بعد میں عوام کے اوپربھاری ٹیکسوں کا بوجھ اور خدمات کے شعبوں سے لیکر قدرتی وسائل پر نجکاری کروا کر قبضہ کرتی ہیں؟
3۔کیا موجودہ صورت حال جہاں سیلاب نے تقریباً 3 کروڑ پچاس لاکھ لوگوں کوبے گھر کیا، سات لاکھ نوے ہزار مویشی مار دئیے ، سترہ ہزار سکولوں کو تباہ کیا اور 20ئ لاکھ ایکڑ زمین بربادکی۔وہاں ضروری نہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کوموخر یا ضبط کیا جائے؟
4۔ کیا ضروری نہیں کہ اس خطے میں پاکستان اور ہندوستان کے عوام میں ایک سیاسی کیمپین چلائی جائے کہ دونوں ممالک کا حکمران طبقہ جارحانہ عزائم کو چھوڑ کر کشمیر کو آئین سازاسمبلی کا حق دیتے ہوئے دفاعی بجٹ دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے؟
5۔ کیا آئی ایم ایف کے قرضے ضبط کرنے، دفاعی بجٹ کم کرنے اور حکمران طبقے کی کرپشن کو ختم کئے بغیر محنت کرنے والوں کی زندگیاں سہل ہو سکتی ہیں؟
6۔کیا ہمیں اس ملک کے حکمرانوں سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں؟
7۔ جہاں پر مظلوم قومیں مسائل کا شکار ہیں اور آزادی کا نعرہ لگاتی ہیں اُن کو ریفرنڈم کا حق دیا جائے؟
8۔کیا سیاسی طاقت کو ہاتھ میں لیے بغیر محنت کش طبقہ ملکی مسائل کا خاتمہ کر سکتاہے؟
9۔کیایہ حکمران جنہوں نے کبھی بھی غربت،مہنگائی، بے روزگاری کا سامنا نہیں کیا وہ متعلقہ ایشوز کو ختم کر سکتے ہیں؟
قلیل لمدت مانگیں۔۔۔۔جن پر ہمیں متفق ہونا پڑے گا
1۔ سیلاب زد گان کی بحالی کا بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے بلکہ تمام اندورونی اور بیرونی قرضے موخر کئے جانے چاہئیں۔
2۔ تمام زمینوں کا بندوبست کرتے ہوئے،زراعت سے تمام قومی اور عالمی اجارہ دار کمپنیوں اور بڑے جاگیرداروں کو بے دخل کیا جائے۔
3۔ہرطرح کی رہائشی سوسائٹیوں پر مکمل پابندی لگاتے ہوئے بے گھر لوگوں کیلئے اپارٹمنٹس تعمیرکئے جائیں۔
4۔ خدمات عامہ کے شعبوں سے ملکی اور عالمی پرائیوٹ کمپنیوں کو بے دخل کرتے ہوئے،ہنگامی بنیادی پر بیروزگاروں کیلئے ٹریننگ کا بندوبست کرتے ہوئے ہر مزدور کے اوقات ِکار 4 گھنٹوں تک محدود کیے جاہیں۔
5۔جن جن سیاسی پارٹیوں نے دورانِ اقتدار آئی ایم ایف اور باقی قرض دہندگان سے معاہدے کئے ہیں، وہ پبلک کرتے ہوئے ایک ایک روپے کا حساب دیں۔
6۔کسانوں کو ہنگامی بنیادی پرجدید ٹیکنالوجی جیسا کہ، ری بوٹس،درجہ حرارت اور نمی کیلئے سینسرز،فضائی فوٹو گرافی کے آلات وجی۔پی۔ایس ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
7۔تمام بڑی صنعتوں کو ورکرز کمیٹیوں کے کنٹرول میں دیا جائے۔
8۔نیم سرمایہ دارو مڈل کلاس کو (پروڈیوسرز اور صارفین کونسل)کا حصہ بناتے ہوئے پیداوار جاری رکھنے کیلئے ہر طرح کی سہولیتں مہیا کی جائیں۔
9۔مظلوم قوموں کو ریفرنڈم کا حق دیا جائے چاہے وہ فیڈریشن کا حصہ رہیں یا الگ ہو جائیں۔
1o۔تمام تعلیمی اداروں میں یاداشتوں کے امتحانات کی جگہ صلاصیتوں کے امتحانات ضروری قرار دیتے ہوئے ہرسطح پرسکول، کالج ا ور یونیورسٹی کے اندر طلبہ،اساتذہ اور انتظامہ پر مشتمل کونسلز بنائی جائیں۔
11۔غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کرتے ہوئے، سرکاری باورچی خانے، لانڈریاں اور ڈے کیئر سنٹر ز تعمیر کیے جائیں۔
12۔تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔
13۔تقر یر، تحریر اور تنقید کی آزاد ی دی جائے۔
14۔ فطری طور پر ہر طرح کے معذور افراد کیلئے جدید سہو لتوں پر مشتمل مستقل اپارٹمنٹس قائم کئے جائیں جہاں پراُن کی عزت نفس کو کوئی مجروح نہ کر سکے۔
15۔ہر یونین کونسل کے اندر سپورٹ کمپلیکس، کمیونٹی ہالز اور لائیبریریاں تعمیر کی جائیں۔

لیبر قومی موومنٹ پاکستان،بلوچستان لیبر فیڈریشن، کسان کمیٹی پنجاب

SHARE