5 فروری کبھی کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کا دن نہیں رہا۔ یہ ایک پاکستانی ریاست کی طرف سے گھڑی گئی رسم ہے،جواسلام آباد میں تیار کی گئی، بیوروکریسی کے ذریعے نافذ کی گئی، اور نعروں کے ذریعے فروخت کی گئی۔ اس کا مقصد آزادی نہیں بلکہ کشمیری دکھ کو پاکستانی حکمران طبقے کی سیاسی ضروریات کے لیے استعمال کرنا تھا۔ یہاں یکجہتی کا تاثر ہے، ،خودمختاری کا نہیں؛ ہمدردی کا شوہے ، اختیارکا نہیں۔
تاریخی پس منظر: 1990 اورریاستی جواب
1990میں جب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پہلی ہمہ گیر عوامی بغاوت اپنے عروج پرتھی۔ لائن آف کنٹرول کے پار حقیقی انقلابی ابھار نے پاکستان کو دو خدشات میں مبتلا کیا بین الاقوامی تنہائی اور بیانیے پر گرفت کا کھو جانا۔ اسی لمحےپاکستان کے قابل لوگوں نے5 فروری کا دن ایجاد کیا ۔ ایک علامتی نکاس یا ظہور، جس میں خودمختاری کی جگہ یکجہتی کے نعرے، جدوجہد کی جگہ تقریب، اور سیاست کی جگہ رسم اظہارِ یکجہتیِ کشمیررکھ دی گئی۔ ابتدا ہی سے یہ کشمیریوں کے بغیر یکجہتی تھی۔
کشمیر بطور ریاستی قانونیّت کی مشین
کشمیر، پاکستانی حکمران طبقے کیلئے تین طرح کی باہمی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی خدمات سر انجام دیتا رہا،
اوّل: مستقل قومی ہنگامی حالت – جس کے نام پر اندرونی طبقاتی تضادات دبائے گئے، فوجی بالادستی کو جواز ملا، اور جمہوری جواب دہی معطل کر دی گئی ۔ کشمیران درندوں کیلئے کبھی بھی ایسا زخم نہیںرہا جسے بھرا جاتا ؛بلکہ وہ زخم ہے جسے کھلا رکھنا فائدہ مند سمجھا گیا۔
دوم: جغرافیائی و اسٹریٹجک فائدہ – زمین، پانی اور فوجی گہرائی۔ یکجہتی کے نعروں کے سائے میں نام نہاد آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتظامی و خفیہ کنٹرول مضبوط کیا گیا اور،حقیقی آئینی حیثیت کشمیریوں کا خواب ہی رہا ۔خالی خولی آزادی کی زبان قبضے کو چھپاتی رہی ۔
سوم: سفارتی سودے بازی – عالمی فورمز پر کشمیریوں کی نمائندگی ، مگر کشمیریوں کی اپنی آزاد آواز کے بغیر۔ نہ خودمختار نمائندگی، نہ آئین سازی کا اختیار، نہ فیصلہ کرنے کا حق۔ یہ یکجہتی نہیں- ، اس کو پیٹ بھری یا چوہدری شجاعت کی آواز میں بولنا، کہتے ہیں ۔
مرکزی تضاد: منتخب حقِ خودارادیت
پاکستان بھارت سے کشمیریوں کے لیے حقِ خودارادیت مانگتا ہے، مگر اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں اسی حق کی نفی کرتا ہے۔ آزاد کشمیرنامی علاقہ ساختی طور پر غیر آزاد ہے؛ گلگت بلتستان آئینی طور پر معلق۔ جب کشمیری اپنے دریاؤں سے سستی بجلی، سستا آٹا، زمین پر اختیار اور جمہوری حقوق مانگتے ہیں—جیسا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک نےما نگ کی ، تو جواب میں یکجہتی نہیں، گولیاں ملی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کم از کم (13)مظاہرین قتل کیے گئے۔
جو ریاست کشمیریوں کو روٹی اور بجلی کے مطالبے پر قتل کرے، وہ ان کی آزادی کی امین نہیں ہو سکتی۔
لینن کا تنبیہ یہاں پوری طرح سے صادق ثابت ہوتا ہے جو قوم دوسری قوم کو دباتی ہے، وہ خود کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔
صرف یکجہتی کا دن ہی کیوں ،تحریکی پروگرام کیوں نہیں؟
ایک دن کے جلسے جلوس بے ضرر ہوتے ہیں؛ خود اقتداری کا پروگرام انقلابی ہوتا ہے۔ 5 فروری کے ذریعے سیاست کو رسم میں بدل دیا گیا،تقاریر، اسکول اسمبلیاں، جھنڈا مارچ، اور ٹی وی پر نعرے۔ عوام سے کہا گیا محسوس کرو، سوچو نہیں؛ نعرہ لگاؤ، منظم نہیں ہونا ۔ کام سے چھٹی کرو، دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کرو لیکن کشمیر ایشو پر بحث پر کسی تنقیدی یا عقل مند انسان سے بحث نہیں کرنی۔اس طرح یکجہتی کو طبقاتی مواد، جمہوری مطالبے اور مادی نتائج سے خالی کر دیا گیا۔ ریاست نے صرف وہ مزاحمت برداشت کی جو اس کے قابو میں ہو،خاص طور پر وہ جو عوامی معاشی جدوجہد سے کٹی ہو۔ جیسے ہی کشمیری آزاد، پرامن اور طبقاتی بنیادوں پر منظم ہوئے، جبر نازل ہوا۔ یہ حادثہ نہیں؛ یہ سرخ لکیر ہے۔ جس کو کھینچنے میں دونوں اطراف کی گماشتہ کشمیری قیادت برابرکی شریک ہے ۔
پراکسی بیانیہ اور انقلابی منطق
بھارت اور پاکستان دونوں محکوم قوموں کی ہر مزاحمت کو “غیر ملکی پراکسی” کہہ کر بدنام کرتے ہیں۔ یہ عام سی بات ہے جب بھیشدید جبر میں ناہموار اور غیر منظم جدوجہد جنم لیتی ہے عوامی سیاسی تحریک کے ساتھ مسلح مزاحمت بھی پھٹ پڑتی ہے ۔ یہ سازش نہیں؛ جبر کی مادی منطق ہے۔ جب سیاسی فضا کچلی جائے،تو مسلح جدوجہد ابھرتی ہے۔ کشمیریا کوئی بھی آزادی کی تحریک اس سے مستثنیٰ حاصل نہیں کر سکتی ۔
فریب کا انہدام: نئی سمت
5 فروری کی رسم اس لیے بکھر رہی ہے کہ کشمیری اب دہلی اور اسلام آباد کے اسٹیج کیے گئے ڈرامے میں کردار بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ مزدوروں، صارفین اور سیاسی فاعلین یا جماعتیوں کے طور پر منظم ہو رہے ہیں،جن کا بنیادی نعرہ ترس نہیں ، اقتدار چاہیے ،ہمیں ایک انقلابی آئین سازاسمبلی کے ذریعے کشمیرکاز کو خود مکمل کرنا ہے۔
ایک انقلابی آئین ساز اسمبلی کی طرف پیش قدمی،بھارتی قبضے سے آزاد، پاکستانی سرپرستی سے آزاد-دونوں ریاستوں کو خوفزدہ کرتی ہے، کیونکہ یہ اس جھوٹ کو بے نقاب کرتی ہے جس پر پورا تنازع کھڑا ہے۔
نتیجہ: حقیقی یکجہتی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
5 فروری آزادی ِ کشمیر کی طرف یکجہتی کا پل نہیں؛ بلکہ یہ ایک ریاستی تماشہ ہے جو کشمیر کے سوال پر اجارہ داری قائم رکھتا ہے اور کشمیری عوام کو غیر مؤثر بناتا ہے۔
حقیقی یکجہتی ریاستی رسومات کے خاتمے سے شروع ہوتی ہے۔کشمیری عوام کے غیر مشروط حقِ فیصلہ سے، اپنی انقلابی آئین ساز اسمبلی کے ذریعے، ہر قسم کے قبضے اور سرپرستی کے خلاف، بلا استثنا۔
کشمیر کی آزادی نعروں سے نہیں آئے گی؛ وہ صرف کشمیری عوام کی منظم، انقلابی جدوجہد سے آئے گی،اپنی طاقت کے ساتھ، اپنی شرائط پر۔