Home Pakistan سوشلزم یا ماحولیات کا خاتمہ

سوشلزم یا ماحولیات کا خاتمہ

SHARE

موسمیاتی تبدیلی کی عالمی نوعیت ہم سب کو وسیع پیمانے پرہر ممکنہ تعاون اور بین الاقوامی سطح پرموثر اور مناسب حکمت عملی وضع کرنے کی طرف ایک واضع عندیہ دے رہی ہے۔ اس تبدیلی نے بہت عرصہ پہلے الارمنگ حالات کی نشاندہی کر دی تھی مگرگزشتہ برسوں میں عالمی سطح پر کسی بھی ماحولیاتی ادارے نے اس نہایت گھمبیر ایشو پر کوئی بھی سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں کی۔یقیناسرمایہ دارانہ نظام کے سیٹھوں کو اس میں منافع نظر نہیں آتا۔ہم ملکی اور عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ مخالف شعور کو بڑے پیمانے پرمتحرک ہونے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔
سارہ خالد
تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا ہر قسم کے انتہائی موسمی واقعات کا باعث بن رہی ہے۔ اس میں نہ صرف بدتر سیلاب بلکہ بدتر خشک سالی بھی شامل ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں یورپ، چین اور دنیا کے کچھ دوسرے خطوں کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے،وہاں پاکستان اپنی حالیہ تاریخ کے بدترین سیلابوں سے گزر رہاہے۔
پاکستان میں طوفانی سیلاب سالانہ رجحان بن چکے ہیں جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر ضیاع ہوتا ہے،بلکہ املاک اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ فصلوں کی تباہی اور مویشیوں کی بڑے پیمانے پر اموات بھی شامل ہیں۔
گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں آخری نمبروں میں ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں آنے والے پہلے 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد مطالعات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ملک کی آب و ہوا تیزی سے غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوتی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں بار بار اور تباہ کن سیلاب آرہے ہیں اور بعض میں خشک سالی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ گلیشیر پگھلنے سے درجہ حرارت عالمی ماحولیات ایجنسی کی طرف سے مختص اوسط سے کئی زیادہ ہے۔ مستقبل میں بھی ان رجحانات کے جاری رہنے سے یہ امکانات بڑھ رہے ہیں کہ ملک کے کچھ حصوں کی عوام کو موسم کی شدید ترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔
ضروری ہے کہ عام عوام کو ہنگامی بنیادوں پرماحول سے متعلق شعور ی آگہی دیتے ہوئے بغیر الجھن کے یہ سچائی بتائی جائے کہ گیس، تیل اور فیکٹریوں کے دھوئیں کی وجہ سے فضائی آلودگی کے بڑھنے اور ترقی کے نام پر جنگلات کی کٹائی سے وبائی بیماریاں اب سرمایہ داری کے خاتمے تک انسانوں کا مقد ر رہیں گی۔
یہ حقیقت ہے کہ ہم آب و ہوا میں خطرناک حد تک ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق کچھ بھی نہیں کر رہے،صرف ’شعور برائے شعو‘رسے اب موجودہ خطرات کے منفی اثرات سے بچا نہیں جاسکتا، جس سے ملکی خوراک اورپینے کے پانی کی حفاظت کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں عنقریب آبادی میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ممکن ہے۔ بدلتی آب و ہوا کے اثرات بلوچستان جیسے کچھ علاقوں میں پہلے ہی نمایاں ہوتے جارہے ہیں جہاں پہلے قحط سالی اور اب سیلاب کی وجہ سے ہزاروں کسان اپنا ذریعہ معاش کھو چکے ہیں جسکی وجہ سے غربت اور بھوک میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
درحقیقت، پاکستان میں بار بار آنے والے سیلابوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی ایک طویل تاریخ ہے۔اور اس کوسمجھنے لے لئے ہمیں اسے ماحول میں عالمی سرمایہ داری کے ابھرتے ہوئے بحران کے ساتھ ساتھ اس کے نوآبادیاتی قبضے کی طویل تاریخ کے طور پر بھی دیکھنا ہو گا۔
پاکستان میں آنے والے سیلاب ایک ’قدرتی آفت‘ نہیں ہیں، جو صرف موسمیاتی تبدیلیوں سے کم ہو سکتے ہیں، یہ خطے میں نوآبادیاتی نظام اور سامراج کی دیرینہ وراثت کی وجہ سے بھی ہیں۔شروع ہی سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی کوئی بھی کوشش جو سیلاب کے خطرے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کے قابل ہوسکتی تھی،اسے عوام کے فائدے کے ساتھ نہیں جوڑ ا گیا، بلکہ اسے پہلے برطانوی سامراج اور پھر پاکستان کے اندر اور باہر سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے حواریوں کے منافع کے ساتھ نتھی کیا گیا۔
اور پھریکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اپنے اپنے سروں سے ذمہ داریوں کا بوجھ اتارنے کے لیے ایک ہی راہ فرار اختیار کی ہے،”کہ اس سال سیلاب غیر معمولی طور پر زیادہ اور شدید بارشوں کی وجہ سے آیا ہے، جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا،اس لئے اس بار زیادہ نقصان ہوا ”۔اور پھرسیلاب سے متاثرہ علاقوں کے چند اعلیٰ سطحی دوروں، راشن اور موت کے معاوضوں کی قابل اعتراض تقسیم کے بعد معاملہ ایک اور واقعہ تک پھر بند ہو جاتا ہے۔
ہر قدرتی آفت کے کچھ وقت بعد حکومت سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو بھول جاتی ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے کن ضروری اقدامات پر عمل کرنا چاہیے یہ نقطہ بھی ان کے لئے اہم نہیں رہتا۔یا شایدملک میں قدرتی آفات کا ظہور ہمارے حکمرانوں کی گہری دعاؤں اور خواہشوں کا نتیجہ ہیں؟یہ حقیقت ہے کہ ایسی آفات کے نتیجے میں ہر بار ملک میں آنے والی غیر ملکی امداد کس حد تک ضرورت مندوں تک پہنچتی ہے،اس کا ریکارڈ نہ کبھی پہلے عام عوام کے سامنے ایک پبلک دستاویز کی صورت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کسی حکومتی نمائندے نے پریس کانفرنس یا اسکرین پر آ کر آنے والی امداد کا کبھی تخمینہ بتایا۔آنے والی امداد کو اونے پونے داموں میں عالمی منڈیوں میں بیچ کر ہمیشہ سے یہ لالچی طبقہ صرف اپنا پیٹ ہی بھرتا رہا ہے۔
اب سین یہ ہے کہ ایک تو شدید سیلاب سے ہر طرف تباہی اور بربادی کے دل دہلا دینے والے منا ظر اور دوسری طرف اس پر ستم ظریفی کہ ملک میں سیلاب کی وجہ سے اشیاء کی سپلائی میں رکاوٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 1.83 فیصد بڑھ کر 44.58 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔کل 51 اشیائے ضروریہ میں سے گزشتہ ہفتے 38 کی قیمتوں میں غیر معمولی ا ضافہ ہوا۔
اس وقت پاکستان ایک بدتر معاشی بحران سے دوچار ہے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کے مطابق غیر معمولی طور پر بھاری اور طویل مون سون بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے زرعی پیداوار، خاص طور پر کپاس اور موسمی فصلوں کے لیے منفی خطرات پیدا کیے ہیں، اور اس سال نمو پر بوجھ پڑ سکتا ہے۔ان تمام نشاندہیوں کے باوجود،ہمیشہ کی طرح نقصانات سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی حکمت عملی یا پروگرام مرتب ہوتا نظر نہیں آرہا۔یہ کوئی نئی بات بھی نہیں! مگر ہاں ! یہ ایک بہت بڑی اور تلخ حقیقت ضرور ہے کہ کسی بھی طرح کی قدرتی آفت میں ہمیشہ محنت کش طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتاہے۔

قدرتی آفات کی وجوہات
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں قدرتی آفات کا ظہور بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں بادل پھٹ رہے ہیں اور گلیشیئر پگھل رہے ہیں جس سے دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق سیارے کو گرم کرنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے سے پاکستان اور باقی جنوبی ایشیائی ملکوں سمیت دنیا بھر میں مذید سخت قدرتی آفات کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مارکسی جغرافیہ دان” نیل اسمتھ” نے کہا تھا کہ، ”قدرتی آفت جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی”! اس کا دعوی یہ نہیں تھا کہ سمندری طوفان،سیلاب اور گرمی کی بڑھتی ہوئی لہریں دنیا میں اپنا وجود نہیں رکھتیں بلکہ اس کا اشارہ ان سماجی عوامل کی طرف تھا جو ایسی آفات لانے کا موجب بنتے ہیں اورجنہیں سرمایہ داری کے نتیجے میں پیدا ہونے مسائل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور باقی ممالک میں آنے والے سیلابوں کو اسی صورت سمجھا جا سکتا ہے جب انہیں ماحول میں عالمی سرمایہ داری کے ابھرتے ہوئے بحران کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔
سیلاب جیسے واقعات کے تناظر میں سرمایہ دارانہ حکومتوں کیلئے انہیں غیر معمولی اور قابو سے باہر ظاہر کرنا بہت آسان ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دار طبقہ یقیناً سمجھتا ہے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا میں کیا کیا نقصانات ہو رہے ہیں۔ وہ واضح طور پر یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اپنی دولت کو تباہی کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے کیسے استعمال کر سکتا ہے یا وہ حالات ہی ختم کر سکتا ہے جو اس تباہی کا موجب بن رہے ہیں،مگر وہ اپنی لالچ میں مگن ایسا نہیں کرتا، ترقی کی آڑ میں وہ بے پناہ وسائل اور پیسہ ضائع کرتا ہوا مریخ کی طرف تو بڑھ رہا ہے لیکن اس سے کم وسائل استعمال میں لا کر اور اپنی اندھی لالچ سے نکل کر دنیا کی فلاح کا نہیں سوچتا۔
اصل میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ سرمایہ داری کو مسلسل جمع کرنے اور اپنے سرمائے کو ضرب در ضرب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں اسے ہر آنے والی سہ ماہی میں پچھلی سہ ماہی سے زیادہ منافع پیدا کرنے کی حوس ہوتی ہے وہاں اس منافع کے عوض ہونے والے نقصانات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔سرمایہ داری کو مستحکم رہنے، لامتناہی ترقی کرنے اور،زندہ رہنے کے لئے وسیع پھیلاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ کھپت، زیادہ پیداوار، زیادہ پیداوار، زیادہ فروخت، اور زیادہ فروخت کے ساتھ، زیادہ منافع پیدا کرنا۔پھر اس میں ماحول تباہ و برباد ہو یا پوری کائنات انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ سرمایہ دار طبقہ دنیا بھر میں ہونے والی حالیہ تباہیوں کی وجوہات سے غافل ہے۔مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اگر وہ سرمایہ دار رہنا چاہتے ہیں تو وہ سائیکوپیتھ کی طرح کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یعنی اس نظام کے بد ترین نتائج کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے فائدے کی طرف بڑھتے جانا۔بالکل ایسے ہی جیسے ایک نفسیاتی مریض جو سمجھتے بوجھتے ہوئے دوسروں کو بڑا اور گہرا نقصان پہنچا رہا ہو۔
سرمایہ داری کے حصہ خور ماحولیات کے ماہرین اور ماحولیاتی سائنس دان اکثر ”زیادہ آبادی” اور اس کے نتیجے میں قدرتی وسائل کے استحصال کو ماحولیاتی بحرانوں کا حصہ گردانتے ہیں۔وہ خرابی کی اصل جڑیں پر پردہ ڈالتے ہوئے اس نقطے سے باہر دیکھنے سے انکار کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ عالمی سطح پربے لگام صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ زیادہ آبادی ماحولیاتی آفات کا باعث بنتی ہے جیسے گلوبل وارمنگ،موسمیاتی تبدیلی، مٹی کا انحطاط، ہوا اور پانی کی آلودگی وغیرہ۔
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زیادہ آبادی، اور درحقیقت، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار، آب و ہوا پر ناقابل تلافی نقصان دہ اثرات مرتب کرتی ہے۔ لیکن جو چیز ان کی تشخیص میں یکسر نظر انداز کر دی جاتی ہے وہ ہے ایک عالمگیر معاشی نظام کے طور پر سرمایہ داری کی حرکیات میں شامل ماحولیاتی خطرات،جن پر سرمائے کی دوڑ میں ایسے پردے ڈال دیئے جاتے ہیں کہ عام نگاہ پر حقیقت آشکار نہیں ہو پاتی۔

اب متبادل کی ضرورت ہے
اندرونی،بیرونی امداد اورمل کر سیلاب زدگان کی مدد کرنا ہی انسانی معاشرے کو ان حالات سے مستقل طور پر نکالنے کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیلاب زدہ علاقوں میں کیا ہو رہا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے پڑوسیوں اپنے لوگوں کی بنا رنگ نسل اور مذہب مدد کر رہے ہیں۔ لوگ دور دراز سے امداد فراہم کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔ ایسے میں بہت کم لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ ایسے حالات آخر کیوں کر پیدا ہوئے؟ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم سب مل کر اس وقت متاثرین کی مدد تو کر رہے ہیں لیکن کیا اتنی ہی طاقت اور جڑت سے ہم سیلاب اور اس طرح کی دوسری آفات کے پیدا ہونے کی وجوہات کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے میدان میں نہیں آ سکتے؟یہی انسانی طاقت اور اتحاد مل کر ایسے نظام کی بنیاد کیوں نہیں رکھ سکتا جس سے ایسی گلی سڑی اور ناقص منصوبہ بندی کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے،جہاں سب کو معیاری خوراک،تعلیم اور رہائش فراہم کی جا سکے؟ایسا نظام جس میں نہ ماحولیاتی بے ترتیبی کا خوف ہواور نہ ہی کسی مادی لالچ کا خیال۔
یہاں پرایک انتہائی اہم نقطہ یہ ہے کہ ایسے آفاتی دور میں خیراتی ادارے یا فاؤنڈیشنزاس گرتے ٹوٹتے نظام کو بچانے کے لئے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔وہ عارضی طور پر کچھ حاصلات دیکر عوام کی توجہ سماجی خدمات کی طرف منتقل توکردیتی ہیں۔مگر حقیقت میں دولت مندوں کو افراتفری سے بچانے، اداروں میں اعتماد برقرار رکھنے اور سماجی تبدیلی کی طرف مائل لوگوں پر قابو پانے کے لئے ایک ایسا جال پھینکتی ہیں،جو سرمایہ داروں کے لئے آب حیات کا کام کرتا ہے۔خیراتی اداروں یا فاؤنڈیشنز(این جی اوز)کابنیادی تنظیمی ڈھانچہ کارپوریٹ ماڈل کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ جو جمہوری طرزپر سرمایہ دارانہ حکومتوں اور کمیونٹی کے درمیان بڑھتی ہوئے دوری کو کم کرنے میں اپنے کردار ادا کرتے ہیں۔
دراصل عالمی سرمایہ دارانہ طاقتیں آفات کی وجوہات اور ذمہ داری کے بارے میں بات چیت نہیں کرنا چاہتیں۔ اس کے بجائے وہ امداد، خیرات، اور دیگر قابل رحم اقدامات کی طرف توجہ دلواتی ہیں۔لہذا اب سرمایہ دادی کی ایسی تمام فرسودہ چالوں کو سمجھتے ہوئے ہمیں خود کے لئے متبادل اور بہتر نظام لانے کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا۔

اب کرنا کیا ہو گا!

اس وقت پاکستان میں سیلاب پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر میکانزم پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کی پہلی اور اہم ضرورت چھوٹے اور بڑے آبی ذخائر اور پانی ذخیرہ کرنے والے ڈیموں کی تعمیر کے لیے علاقوں کی نشاندہی ہے۔
یہ آبی ذخائر اور ڈیم چار وسیع مقاصد کی تکمیل کرسکیں گے:
ٓا) بارش کے پانی کو نشیبی علاقوں میں بہنے سے روکنا جو سیلاب اور تباہی کا باعث بنتے ہیں،
ب) اس ذخیرہ شدہ پانی کو سال بھر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنا،
ج) پینے کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور
د) لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لیے سستی بجلی پیدا کرنا۔
مختصرا یہ کہ ایک آزاد ادارے کے تحت سیلاب پر قابو پانے کا طریقہ کار وضع کرناہماری حکمت عملی کا بنیادی جزو ہونا چاہیے، جو سیاسی یا صوبائی اثر و رسوخ سے پاک ہو۔اس ادارے کو ان علاقوں کا ہنگامی سروے کرنا چاہیے جہاں پانی کے ذخائر اور پانی ذخیرہ کرنے کے ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔اس مقصد کے لئے مقامی سطح پر عوامی کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلے متعلقہ شعبوں کے ماہرین شامل ہوں،جو عزم اور دور اندیشی کے ساتھ دی گئی ذمہ داریاں نبھا ئیں۔
ماحولیاتی بحران کی وجوہات پرسرار نہیں ہیں۔حقائق اور نتائج پوری طاقت کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں،اس لئے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی بڑی سائنس نہیں بلکہ سوشلسٹ نظام کی ضرورت ہے۔اس بحران کا واحد حل معیشت پر شعوری اور مکمل جمہوری کنٹرول ہے۔کیونکہ اس گندگی سے بھرے نظام کے اندر رہتے ہوئے ایسے سنگین مسائل کا کوئی بھی حل ممکن نہیں۔
اپیل!
اس وقت ہماری واحد امید سیلاب زدگان کے ساتھ یکجہتی کے شدید جذبے میں پنہاں ہے۔ ہمیں اس یکجہتی کو عالمی اور مستقل بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اب سرمایہ دارانہ ہتھ کنڈوں پر مبنی اقلیتی گروہوں یا فاؤندیشنز کی نہیں بلکہ محنت کشوں اور متاثرین کو بڑے پیمانے پر جمع ہو کر یکجہتی پر مبنی نظام بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ سیلاب پاکستان میں اب تک کے بدترین سیلابوں میں سے ایک ہے۔ہم تباہ کن سیلابوں سے متاثرہ خواتین اور بچوں کے تحفظ اور نفسیاتی بہبود میں معاونت کے لئے بھی مل کر کام کرنے کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ پاکستانی محنت کش طبقے کے سامنے ایک طویل اور مشکل راستہ ہے اور انہیں اب ہمارے اجتماعی تعاون کی ضرورت ہے!

SHARE