محنت کش تحریک(ادارت)
6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع، ایک شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 160 سے زائد زخمی ہوئے، یہ محض ایک سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کی ریاستی تشکیل، سیاسی معیشت اور جمہوری ارتقا میں موجود گہرے تضادات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ ریاستی سکیورٹی ڈھانچے کی ناکامیوں کو بھی واضح کیا۔ وفاقی دارالحکومت میں اس حملے نے ریاست کی طاقت، خودمختاری اور قانونی اجارہ داری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے، کیونکہ حکمرانوں نے ہمیشہ یہ دلیل پیش کی کہ ریاست وہ ادارہ ہے جو جائز تشدد پر اجارہ داری رکھتا ہے، اور جب غیر ریاستی عناصر مسلسل اس اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہیں، تو ریاستی جواز کمزور ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا یہ واقعات محض سکیورٹی ناکامی ہیں یا ریاستی تشکیل کے اندرونی بحران کی علامات ہیں۔
پاکستان میں خودکش حملوں کی تاریخ اس مسئلے کی جڑوں کو واضح کرتی ہے۔ پہلا بڑا خودکش حملہ 1990 کی دہائی کے وسط میں ہوا، تاہم 2001 کے بعد اس رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا، جب افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان عالمی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہوا۔ 2007 سے 2009 کے دوران دو سو سے زائد خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل (2007)، اسلام آباد میریئٹ ہوٹل پر حملہ (2008)، آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ (2014) اور متعدد مساجد و امام بارگاہوں پر واقعات شامل ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2001 کے بعد دہشت گردی سے تقریباً 80,000 پاکستانی شہری، فوجی اور پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔ یہ انسانی نقصان صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ قومی سماجی ڈھانچے کی شکستگی کی علامت ہے، اور 6 فروری 2026 کا حملہ، جس میں چار سے چھ کلو گرام دھماکہ خیز مواد اور بال بیرنگ استعمال کیے گئے، اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے ۔
ان حملوں کے معاشی اثرات بھی گہرے اور دیرپا ہیں۔ دہشت گردی کے عروج کے سالوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی، دفاعی اخراجات میں اضافہ، ترقیاتی بجٹ کا سکیورٹی آپریشنز کی طرف رجحان، اور تجارتی و سیاحتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھنے میں آئی۔ ورلڈ بینک (2015) کے مطابق دہشت گردی نے پاکستان کی معاشی نمو کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ سماجی لحاظ سے عوامی مقامات پر عسکری نگرانی، شہری آزادیوں میں کمی، فرقہ وارانہ عدم اعتماد، اور نوجوان نسل میں خوف و غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی۔ سکیورٹی اقدامات اب عارضی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں، جس سے شہری آزادی اور جمہوری عمل متاثر ہو رہے ہیں۔
ریاستی بحران کی ساختی وجوہات میں جغرافیائی سیاسی اثرات، عسکری و سول عدم توازن، معاشی انحصار اور سیاسی اخراج شامل ہیں۔ افغان جہاد کے دوران بننے والے عسکری نیٹ ورکس بعد میں داخلی خطرہ بن گئے، اور یہی وجہ ہےکہ سابقہ پالیسیوں کے غیر متوقع نتائج موجودہ وقت میں شدید بحران پیدا کر رہے ہیں۔ فوجی مداخلتیں، جیسے کہ 1958، 1977 اور 1999 میں، سیاسی اداروں کی کمزوری کا سبب بنیں، اور سول بالادستی کی غیر موجودگی نے جمہوری استحکام کو متاثر کیا۔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں نیم اطرافی ریاستیں اکثر معاشی خودمختاری سے محروم رہتی ہیں، اور پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار نے داخلی پالیسی، سازی کو محدود کیا ہے۔ جس سے سیاسی شرکت کے مواقع محدود ہوئے اور عدم اطمینان زیر زمین شکل اختیار کرتا گیا۔ سیاسی اظہار کی بندش نے شدت پسندی کے لیے زمین فراہم کی ہے۔
پاکستان میں سکیورٹائزیشن اور جمہوری سکڑاؤ کے رجحانات اب کسی تجزیاتی مبالغے کا حصہ نہیں رہے بلکہ ایک ٹھوس سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔ ہر بڑے حملے کے بعد نگرانی کے اختیارات میں توسیع، میڈیا پر قدغنوں میں اضافہ اور عوامی اجتماعات پر پابندیوں کو وقتی اور ناگزیر اقدامات کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر تسلسل کے ساتھ ان کی تکرار نے انہیں غیر معمولی اقدامات سے نکال کر معمول کی حکمرانی کا حصہ بنا دیا ہے۔ یوں سکیورٹی کی منطق آہستہ آہستہ سیاسی منطق پر غالب آتی گئی اور جمہوری عمل ایک مستقل دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا گیا۔
اسی تاریخی تناظر میں مارکسی روایت کے اہم نظریہ دان لیون ٹراٹسکی نے “انقلابی دستور ساز اسمبلی” کی اصطلاح کو اس بحث کے مرکز میں رکھا تھا۔ ٹراٹسکی کے نزدیک جب کوئی موجودہ آئینی ڈھانچہ سماج میں موجود طبقاتی تضادات کو جذب کرنے اور حل کرنے کی صلاحیت کھو دے، جب ریاستی ادارے محض طاقت کے توازن کو منجمد رکھنے کا ذریعہ بن جائیں اور جب قانونی تسلسل خود سماجی جمود کا محافظ بن جائے، تو ایسی صورت میں محض اصلاحی اقدامات ناکافی ہو جاتے ہیں۔ تب ایک ایسی اسمبلی کی ضرورت پیدا ہوتی ہے جو صرف آئینی ترامیم نہ کرے بلکہ ریاستی ڈھانچے کی بنیادوں کو ازسرنو ترتیب دے، طاقت کے منبع کو منتقل کرے اور اقتدار کی سماجی بنیاد کو بدل دے۔
اگر پاکستان کو اس نظریاتی عدسے/لینس سے دیکھا جائے تو سول و عسکری تعلقات کا غیر متوازن ڈھانچہ، صوبائی خودمختاری کے نامکمل سوالات، معاشی انصاف کی عدم موجودگی، عدالتی و پارلیمانی اختیارات کا ابہام اور مرکزیت پسند رجحانات،یہ سب ایسے مسائل ہیں جو محض روایتی دستور ساز عمل کے اندر رہتے ہوئے حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایک “سادہ” یا روایتی دستور ساز اسمبلی عموماً آئینی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اختیارات کی وضاحت، پارلیمانی خودمختاری کے استحکام، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور احتسابی ڈھانچے کی بہتری تک محدود رہتی ہے، جیسا کہ دیگر ممالک کے انتقالی ادوار میں دیکھا گیا۔ مگر جہاں ریاستی طاقت کی ساخت خود طبقاتی اور ادارہ جاتی عدم توازن پر قائم ہو، وہاں اصلاح کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔
اسی لیے انقلابی دستور ساز اسمبلی کا تصور محض آئینی ترمیم کا نہیں بلکہ اقتدار کی سماجی منتقلی کا سوال اٹھاتا ہے۔ ایسی اسمبلی مظلوم قومیتوں کے حقِ خود اختیاری بشمول حقِ علیحدگی،کو تسلیم کرے، معاشی وسائل پر عوامی ملکیت اور جمہوری نگرانی کو یقینی بنائے، اور اس طاقت کے ڈھانچے کو توڑے جو سرمایہ دارانہ منافع، جاگیردارانہ تسلط اور عسکری بالادستی کے گٹھ جوڑ سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ تصور اس ریاستی و معاشی ماڈل کو مسترد کرتا ہے جس میں عوامی خدمات کے ادارے نجکاری کے ذریعے سرمائے کے ہاتھوں منتقل کیے جاتے ہیں، قدرتی وسائل کو منافع کی منڈی میں نیلام کیا جاتا ہے، اور سماج کو مذہب، جنس یا شناخت کی بنیاد پر تقسیم کر کے سیاسی شعور کو منتشر کیا جاتا ہے۔
انقلابی اسمبلی کا جوہر یہ ہے کہ وہ اقتدار کو مرکزیت پسند اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکال کر مزدوروں، کسانوں، طلبہ، خواتین اور متوسط طبقے کے باشعور حصوں کے سپرد کرے۔ یہ کوئی نمائشی یا علامتی فورم نہیں بلکہ ایک متحرک اور مسلسل آگے بڑھنے والا عمل ہو، جو “ورکرز کنٹرول” کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی انتظامی اصول بنائے۔ فیکٹریوں، کھیتوں، جامعات اور عوامی اداروں میں جمہوری کنٹرول کے ذریعے معیشت کو منافع کے بجائے سماجی ضرورت کے تابع کیا جائے۔
ایسی اسمبلی کا مقصد صرف آئینی الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ طاقت کے تعلقات کی تبدیلی ہو۔ وہ مرکزیت کے اس ڈھانچے کو تحلیل کرے جو مقامی اور طبقاتی خودمختاری کو کچلتا ہے، اور ایک ایسی وفاقی جمہوریت کی بنیاد رکھے جو رضاکارانہ اتحاد، معاشی مساوات اور سماجی انصاف پر استوار ہو۔ اس تصور میں ریاست کا جواز سکیورٹی کے نام پر کنٹرول سے نہیں بلکہ عوامی رضامندی، معاشی شرکت اور جمہوری اختیار سے پیدا ہوتا ہے۔
بالآخر، اگر ریاستی بحران محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ساختی تضاد کا اظہار ہے، تو اس کا حل بھی محض انتظامی اصلاح نہیں ہو سکتا۔ ایک حقیقی انقلابی دستور ساز اسمبلی وہی ہو سکتی ہے جو اقتدار کی طبقاتی بنیاد کو تبدیل کرے، عوام کو محض ووٹر نہیں بلکہ فیصلہ ساز بنائے، اور سماج کو استحصال، مرکزیت اور منافع پرستی کی گرفت سے آزاد کر کے ایک سوشلسٹ سماج کی سمت لے جائے،ایسا سماج جہاں ریاست طاقت کی محافظ نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کی منظم شکل ہو۔
حوالہ جات
Reuters.( 6 February 2026) “ Explosion rocks Shi’iteMosque in Islamabad: dozens killed.”
South Asia Terrorism Portal (20230 . Pakistan Terrorism Data Portal.
Trotsky, (1930). On the Spanish Revolution.
World Bank. (2015). Pakistan Economic Update.