بلوچستان کے تقریباً بارہ شہروں میں بی ایل اے کی جانب سے کیے گئے مربوط حملے صوبے کی سلامتی کی صورتحال میں ایک نہایت تشویشناک اور سنگین پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان حملوں میں بے گناہ جانوں کا ضیاع افسوسناک، المناک اور ناقابلِ جواز ہے۔ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جو اس تشدد کا شکار ہوئے۔ یہ وہ عوام ہیں جو پہلے ہی ریاستی جبر، غربت، بیروزگاری اور سیاسی محرومی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
لیکن ان واقعات کو محض سکیورٹی ناکامی یا بیرونی سازش قرار دے کر سمجھنا نہ صرف سطحی بلکہ دانستہ گمراہ کن تجزیہ ہے۔ بلوچستان میں جاری تشدد کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ اس نوآبادیاتی، طبقاتی اور آمرانہ ریاستی ڈھانچے کا منطقی نتیجہ ہے جو دہائیوں سے اس خطے پر مسلط ہے۔
اگرچہ بلوچستان میں عسکریت پسند تشدد کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ حملوں کے چند پہلو غیرجذباتی اور سنجیدہ تجزیے کے متقاضی ہیں۔ پہلی بار کوئٹہ شہر کے اندر متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا،وہ علاقے بھی جو روایتی طور پر ہائی سکیورٹی زون تصور کیے جاتے ہیں، جہاں صوبائی ادارے اور اعلیٰ حکام کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔ یہ صورتحال صرف سکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ اس پورے نظامِ حکمرانی کی ناکامی ہے جو طاقت، جبر اور مصنوعی استحکام پر کھڑا ہے۔
اسی طرح ان حملوں کا جغرافیائی پھیلاؤ—بارہ سے زائد شہروں اور قصبوں میں بیک وقت کارروائیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مزاحمتی تنظیموں کی تنظیمی صلاحیت میں تبدیلی آئی ہے۔ ریاست کے تمام دعوؤں کے باوجود تشدد کم نہیں ہو رہا بلکہ اپنی شکل بدل رہا ہے۔ خاص طور پر ایک تاریخی طور پر سیکولر قوم پرست تحریک میں خودکش حملوں کا ظاہر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی جبر نے سماج کو کس حد تک بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ یہ رجحان کسی بیرونی ہاتھ سے زیادہ ریاست کے اندرونی تضادات کی پیداوار ہے۔
ریاست اور اس کے ترجمان اس ساری صورتحال کی وضاحت “بیرونی مداخلت” کے بیانیے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ بیانیہ تجزیاتی طور پر ناکافی ہے۔ مارکسٹ واضح کہتے ہیں کہ ریاست کوئی غیرجانبدار ادارہ نہیں بلکہ “حکمران طبقے کے مفاداتی تحفظ کے جبر کا آلہ ” ہوتی ہے۔ بلوچستان میں یہ ریاستی حقیقت ننگی ہو چکی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ریاست موجود نہیں، صرف اقتدار موجود ہے۔ صوبہ ایک ایسے آمرانہ اور نیم نوآبادیاتی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے جہاں منتخب نمائندے محض علامتی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت ایک مصنوعی پیداوار ہے، جسے عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ نے جنم دیا ہے۔ یہ قیادت عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ اس جنگ کی بینیفشری ہے۔ یہ بڑی عام سی اصطلاح ہے کہ بوناپارٹسٹ رجیم میں جتنا بحران گہرا ہوگا، اتنے ہی زیادہ علامتی عناصر کو بغیر ووٹ اقتدار ملتا رہے گا۔
عملی طور پر صوبے کے انتظامی امور پر عسکری اداروں کا غلبہ ہے۔ نہ منتخب نمائندوں کو اختیار حاصل ہے، نہ صوبائی بیوروکریسی کو۔ نتیجتاً احتساب ناپید ہو چکا ہے، بدعنوانی ایک نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور وسائل عوامی فلاح کے بجائے حکمران طبقے اور مقامی اشرافیہ کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ معاشی مواقع سکڑتے جا رہے ہیں، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، اور عوامی بیگانگی مزید گہری ہو رہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پرامن سیاست پر کریک ڈاؤن:
اس بحران کا ایک نہایت اہم مگر دانستہ طور پر نظرانداز کیا جانے والا پہلو پرامن سیاسی جدوجہد پر ریاستی جبر ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی قیادت اور کارکنان کی نظربندیاں، گرفتاریاں، اور ان پر عسکریت پسندوں یا بی ایل اے کے ساتھ مبینہ ملاپ کے الزامات اسی نوآبادیاتی ریاستی منطق کا تسلسل ہیں جس کے تحت ہر آزاد عوامی آواز کو دشمن قرار دیا جاتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاست بنیادی طور پر سول، عوامی اور غیر مسلح رہی ہے۔ اس کا مرکزی نکتہ لاپتہ افراد، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی بے اختیاری جیسے مسائل ہیں۔ مگر ریاست کے لیے اصل خطرہ بندوق نہیں بلکہ سیاسی شعور ہے۔ اسی لیے پرامن تحریکوں کو “سکیورٹی رسک” بنا کر کچلا جاتا ہے۔
یہ وہی منطق ہے جس کی طرف لینن نے ریاست اور انقلاب میں اشارہ کیا تھا: جب ریاست پرامن سیاسی مطالبات کا جواب جبر سے دے، تو وہ خود اپنے طبقاتی کردار کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ پرامن سیاست کو ناممکن بنا کر ریاست خود اس تشدد کی بنیاد رکھتی ہے جسے وہ بعد میں جواز بنا کر مزید جبر مسلط کرتی ہے۔
تاریخی پس منظر: بلوچ سوال کوئی حادثہ نہیں
بلوچستان کی مزاحمت کوئی وقتی یا حادثاتی رجحان نہیں۔ 1948 سے لے کر آج تک ریاست نے بلوچ سیاسی سوال کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی،چاہے وہ ون یونٹ کا آمرانہ تجربہ ہو، 1970 کی دہائی کا فوجی آپریشن، یا 2000 کے بعد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے نام پر جاری عسکری پالیسیاں۔
ہر دور میں نتیجہ ایک ہی نکلا:
سیاسی عمل کمزور، عسکری منطق مضبوط، اور عوام ریاست سے مزید دور۔
مستقل انقلاب کے تصور میں یہی نکتہ کلیدی ہے: جب قومی، جمہوری اور سماجی سوالات کو زبردستی منجمد کر دیا جائے تو وہ مختلف شکلوں میں پھوٹ پڑتے ہیں۔ بلوچستان میں اگر ایک طرف مسلح مزاحمت موجود ہے اور دوسری طرف ایک ایسی عوامی تحریک جو چند گھنٹوں کی کال پر لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لا سکتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست سیاسی میدان میں شکست کھا چکی ہے،اور اسی شکست کو وہ عسکری طاقت سے پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ریاست کی بنیادی غلط فہمی عیاں ہو جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اگر پرامن سیاسی قیادت،جیسے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو نظربند کر دیا جائے، اس پر “دہشت گردی” کے لیبل چسپاں کر دیے جائیں، اور اسے عسکری بیانیے میں جذب کر لیا جائے، تو تحریک کمزور ہو جائے گی۔ لیکن تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے۔ جب جب سیاسی جدوجہد کے دروازے بند کیے گئے، مسلح جدوجہد نے زیادہ شدت اختیار کی۔ جب جب عوامی آواز کو دبایا گیا، تحریک نے زیادہ منظم اور زیادہ فیصلہ کن شکل اختیار کی۔
میڈیا، بیانیہ اور حقیقت کا تضاد
ان حکمرانی کی ناکامیوں کو ایک سخت پابندیوں والے سیاسی اور میڈیا ماحول نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حقیقی اپوزیشن ناپید ہے۔ پرامن سیاسی آوازیں جیلوں میں ہیں۔ بلوچستان کی اصل صورتحال پر آزاد اور غیرجانبدار رپورٹنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ قومی میڈیا چند ریاستی مؤقف رکھنے والی آوازوں تک محدود ہو چکا ہے، جہاں ریاستی بینچز میں بیٹھے تجزیہ کار بلوچستان پر لیکچر دیتے ہیں—اور خود بلوچستان کے عوام ان چینلز کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قومی میڈیا اور مصنوعی سوشل میڈیا پیجز بلوچستان میں غیرمتعلق ہو چکے ہیں۔ زمینی حقیقت مایوسی، خوف اور غصے سے بھری ہوئی ہے—مگر یہ سچ قومی میڈیا میں نظر نہیں آتا۔
حل کیا ہے؟
یہ بحران نہ تو مزید سکیورٹی آپریشنز سے حل ہوگا، نہ کنٹرولڈ بیانیوں سے، اور نہ ہی پرامن سیاسی قیادت کو کچل کر۔ مسئلہ ریاستی ڈھانچے کی بنیادوں میں ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں۔ یہ اسی طبقاتی ریاست کا اظہار ہے جو پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخوا میں محنت کشوں، کسانوں اور مظلوم طبقات کو مختلف شکلوں میں دباتی ہے۔ فرق صرف شدت اور صورت کا ہے۔
آگے بڑھنے کا واحد راستہ: انقلابی آئین ساز اسمبلی
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے پاکستان—خصوصاً پنجاب اور سندھ کے محنت کش عوام—بلوچستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑے ہوں اور ایک انقلابی آئین ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کریں۔ ایسی اسمبلی جو:
حقیقی عوامی نمائندگی پر مبنی ہو
عسکری بالادستی کا خاتمہ کرے
تمام قومیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقِ خود ارادیت دے
وسائل پر عوامی ملکیت قائم کرے
ریاست کو محنت کش طبقے کے مفاد میں ازسرِنو تشکیل دے
جب تک یہ نوآبادیاتی، طبقاتی اور جبر پر مبنی ریاست قائم رہے گی، بلوچستان جلتا رہے گا—اور یہ آگ آخرکار پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔
یہ محض بلوچستان کی جنگ نہیں۔
یہ پورے پاکستان کے محنت کش عوام کی جنگ ہے۔
اور اس کا واحد جواب ایک انقلابی، جمہوری اور سوشلسٹ ریاست ہے۔