مصنف: فرانسیسکو رکسی
بورژوا انقلاب یا سوشلسٹ انقلاب؟ بیسویں صدی کے آغاز سے، اور خاص طور پر خونریز روسی انقلاب 1905 کے بعد، مزدور تحریک میں یہ بحث جاری رہی کہ زاروں کے ملک میں آنے والا انقلاب کس نوعیت کا ہوگا۔ یہ بحث محض روس تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپی سطح پر بھی اس پر غور و فکر ہوتا رہا۔ اس مسئلے پر تین اہم نظریات سامنے آئے۔
تین متضاد نظریات
پہلا نظریہ اُن لوگوں کا تھا جو خود کو "آرتھوڈوکس مارکسسٹ” کہتے تھے، جس کی قیادت روسی مارکسزم کے بانی، مینشیوک جارجی پلیخانوف کر رہے تھے۔ انہوں نے مارکس کو ایک میکانیکی تقدیریت پسند کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ مارکس نے "تاریخ کے قوانین” کی بنیاد پر یہ طے کیا کہ سوشلسٹ انقلاب صرف اُن ممالک میں آ سکتا ہے جہاں سرمایہ داری مکمل طور پر ترقی یافتہ ہو۔ اس لحاظ سے، روس ایک پیچھے رہ جانے والا ملک ہے، لہٰذا کمیونسٹوں کا کام صرف بورژوا انقلاب کی حمایت کرنا اور چند دہائیوں یا صدیوں کے بعد سوشلسٹ انقلاب کے لیے راستہ ہموار ہونے تک انتظار کرنا تھا۔
دوسرا نظریہ بولشویکوں کا تھا، جس کی قیادت لینن کر رہے تھے۔ 1903 سے وہ روسی سوشلسٹ ڈیموکریٹک ورکرز پارٹی میں ایک الگ دھڑا قائم کر چکے تھے، جس میں اپنی قیادت کے ادارے اور پریس تھے۔ لینن نے بھی مستقبل کے انقلاب کو بورژوا نوعیت کا قرار دیا، لیکن چونکہ روس کی بورژوا قیادت سامراج کے تابع تھی اور اپنی انقلاب کی قیادت کرنے کے قابل نہیں تھی، اس لیے انقلاب کی قیادت پرو لتایہ اور غریب کسانوں کے اتحاد کے سپرد کی گئی۔ اس مرحلے میں زرعی اصلاحات، جمہوری آزادی، آٹھ گھنٹے کے کام کا دن اور دیگر ڈیموکریٹک کام انجام دینے تھے۔مینشویک نظریہ اور لینن کے نظریہ میں انقلاب کی سمت اور وقت کے لحاظ سے گہرا فرق تھا۔ انقلاب کے مراحل میں تقسیم موجود تھی، لینن کا نظریہ مینشیویکوں کی طرح صدیوں تک سرمایہ داری کے مسلط رہنے جیسے فاصلے کے بغیر تھا ۔ لینن کے مطابق پہلے مرحلے کا نتیجہ ایک "مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت" تھا، یعنی ایک خاص نوعیت کی بورژوا جمہوریت۔
تیسرا نظریہ صرف لیون ٹراٹسکی کا تھا، جو 1905 کے انقلاب میں سینٹ پیٹرز برگ سوویٹ کے صدر بن کر اہم کردار ادا کر چکے تھے۔ وہ دونوں پارٹی دھڑوں، یعنی مینشیوک اور بولشویک نظریات سے الگ تھے اور یہ نظریہ پیش کیا کہ انقلاب کو دو علیحدہ مرحلوں میں تقسیم کرنا ممکن نہیں۔
ٹراٹسکی نے بھی لینن کی طرح لبرل بورژوازی پر اعتماد نہیں کیا، لیکن لینن کے برعکس ٹراٹسکی نے یہ نہیں مانا کہ جمہوری اور سوشلسٹ کام دو الگ مراحل میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ انقلاب کو غلبہ رکھنے والے پرولتاریہ کی آمریت جو غریب کسانوں کو اپنا اتحادی بنا کرانقلاب کی قیادت کرے گی۔ تاکہ جمہوری اور سوشلسٹ کام ایک ساتھ حل کیے جا سکیں، جو لازمی طور پر آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
ٹراٹسکی کے مطابق، روس میں سوشلسٹ انقلاب کی تیاری کا انحصار صرف ملک کے اندرونی سماجی و اقتصادی ترقی پر نہیں بلکہ بین الاقوامی انقلاب کے تناظر میں ہوتا ہے۔
ٹراٹسکی کے خیال میں روس کی سوشلسٹ انقلاب کے لیے "پختگی” اس بات پر منحصر تھی کہ صنعتی پرو لتاریہ کی مرکزی توجہ اور تنظیمی سطح کس حد تک ترقی کر چکی ہے، اور یہ بھی کہ یہ ترقی دیگر "ترقی یافتہ” اور "پیچھے رہ جانے والے” ممالک کے مجموعی اور غیر مساوی لیکن مربوط عمل کے ساتھ کس طرح مربوط ہے، تاکہ پیچھے رہ جانے والے ممالک وہی راستہ نہ اختیار کریں جو ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔
جب ٹرین فن لینڈ اسٹیشن پہنچی
جو بحث ہم نے یہاں بیان کی، وہ محض علمی بحث نہیں تھی بلکہ سرگرم کارکنوں کے درمیان تھی۔ ہر نظریہ کو عملی طور پر اپنی تصدیق یا تردید ملنی تھی، جیسا کہ مارکس نے کہا، تاریخ بنیادی طور پر طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ 1917 کے انقلاب نے اس بحث کو حتمی شکل دی اور ٹراٹسکی کے درست ہونے کو ثابت کیا۔
جمہوری مقاصد (روٹی، امن، زمین) کے حصول کے لیے پہلے پرولتاریہ کی آمریت قائم کرنا اہم مقصد تھا، اور اس کے لیے بورژوا حکومت کو ختم کرنا لازمی ہو گیاتھا، جو سوویٹس کی مکمل طاقت کے راستے میں رکاوٹ تھی۔3 اپریل 1917 (ہمارے کیلنڈر کے مطابق 16 اپریل) کو "آرمورڈ ٹرین” فن لینڈ اسٹیشن پہنچی۔ اس پر لینن، زینووئیف، اینیسہ آرمانڈ، راڈیک اور دیگر قائدین موجود تھے جو جلاوطنی سے واپس آئے تھے۔
لینن نے سوویٹ کے نمائندوں اور کارکنوں سے خطاب کیا۔ ان کا پیغام بار بار دہرانا ضروری ہے: انقلاب سوشلسٹ نوعیت کا ہے؛ اس لیے عارضی حکومت کی حمایت نہ کی جائے، اور بولشویک اقلیت کو سوویٹس میں اکثریت حاصل کر کے ایک حقیقی مزدور حکومت قائم کرنی چاہیے، یعنی پرو لتاریہ کی آمریت، بورژوا ریاست کو انقلاب کے راستے پر گامزن کرتے ہوئے تباہ کیا جائے۔ یہ نظریہ وہی تھا جو ٹراٹسکی نے دس سال پہلے "مستقل انقلاب" کے نظریہ کے ساتھ پیش کیا تھا۔ اسی لیے بہت سے لوگوں نے نئے پروگرام کو "ٹراٹسکائٹ قرار دیا۔
ظالم اپریل
"اپریل سب سے زیادہ ظالم مہینہ ہے”، شاعر T. S. Eliot نے اپنی نظم The Waste Land میں لکھا تھا۔ یقیناً 1917 کا وہ اپریل بورژوا طبقے کے لیے ظالم ثابت ہوا، لیکن وہ بالشویک قیادت کے لیے بھی کچھ زیادہ مہربان نہ تھا۔جب Vladimir Lenin نے پروگرام میں تبدیلی کیلئے اپنی تجویز پیش کی، جس کا خلاصہ بعد میں “اپریل تھیسس” کے نام سے یاد کیا گیا، تو ابتدا میں وہ اپنی ہی پارٹی کے اندر تنہا محسوس کرنے لگے۔ نئی پالیسی، پارٹی کی اُس پرانی لائن کے بالکل برعکس تھی جسے اس وقت روس میں موجود رہنماؤں، یعنی Lev Kamenev اور Joseph Stalin برقرار رکھے ہوئے تھے۔ وہ “مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت” کے پرانے مؤقف پر قائم تھے، بلکہ اسے مزید دائیں بازو کی طرف موڑتے ہوئے بورژوا حکومت کو “تنقیدی حمایت” دینے کی پیشکش کر رہے تھے، اور یہاں تک کہ اُس بورژوا حکومت میں شریک مینشویکوں کے ساتھ اتحاد کی تیاری بھی کر رہے تھے۔
اس کے برعکس، لینن کے نزدیک “جمہوری آمریت” کا پرانا نعرہ تاریخ کے عجائب گھر کے حوالے کیے جانے کے قابل تھا (جسے بدقسمتی سے ایک دہائی بعد اسٹالن نوازوں نے دوبارہ زندہ کر دیا)۔ شدید اور طویل جدوجہد کے بعد ہی لینن پارٹی کے اندر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
برن میں ہیگل کے فلسفے کا مطالعہ
لینن کی نطریاتی پیش رفت اپریل 1917 سے شروع نہیں ہوئی تھی ؛ اس کی ابتدا کئی سال پہلے ہو چکی تھی۔ اگست 1914 کو دوسری انٹرنیشنل (جس سے بالشویک وابستہ تھے) ، اس کی سب سے بڑی جماعت، جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD)، عملی طور پر ٹوٹ گئی، کیونکہ تقریباً تمام قومی قیادتوں نے پہلی عالمی جنگ کے قتلِ عام میں اپنی اپنی قومی بورژوازی کی حمایت کر دی تھی۔ یہ ایک تاریخی غداری تھی۔ لینن، دیگر بہت سے سوشلسٹوں کی طرح، اس صورتِ حال سے ششدر رہ گئے۔ انہیں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ان نظریاتی “جوازوں” کا سراغ لگائیں جو دراصل ایک ایسی بیوروکریسی کے مادی مفادات کو چھپا رہے تھے جو بتدریج بورژوا ریاست کے تابع ہو چکی تھی۔ اسی مقصد کے لیے لینن نے ایک بظاہر تجریدی اور خالص فلسفیانہ مطالعہ شروع کیا۔ چند سال قبل انہوں نے فلسفے پر صرف ایک کتاب لکھی تھی ، مادیت اور تجربیت پسندی کی تنقید جو اب بھی پلیخانوف کے معرفتی (epistemological) تصورات سے گہرے طور پر متاثر تھی۔
لینن، جو خود کو “فلسفے میں نو آموز” کہتے تھے، فلسفے کی تاریخ کے گہرے مطالعے میں ڈوب گئے۔ انہوں نے ارسطو اور قدیم یونانی مفکرین کا مطالعہ کیا، اور خاص طور پر ہیگل کا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے پہلے بھی ہیگل کی کچھ کتب پڑھی ہوں، مگر انہوں نے اس کی سب سے اہم تصنیف، منطق کی سائنس، پہلے نہیں پڑھی تھی۔
ستمبر 1914 سے مئی 1915 کے درمیان کیے گئے اس مطالعے کا ثبوت ہمیں صرف ان کے نوٹس اور اقتباسات کی صورت میں ملتا ہے، جو بعد میں فلسفیانہ نوٹ بکس کے نام سے شائع ہوئے۔
"حقیقی مارکس” کی بازیافت/ آغاز نو”
اس مطالعے سے مسلح ہو کر لینن نے گویا “اصل مارکس” کو دوبارہ دریافت کیا،وہ مارکس جسے دوسری انٹرنیشنل کے موقع پرستوں نے مسخ کر دیا تھا۔
یہ وہ مارکس تھا جو کہتا ہے کہ "مربی/سرپرست کو خود بھی تربیت پانا ضروری ہے” (فیورباخ پر تھیسس کا تیسرا نکتہ)؛ وہ مارکس جو یہ کہتا ہے کہ حالات انسانی عمل، طبقاتی جدوجہد اور انقلابی عمل کے ذریعے بدلے جا سکتے ہیں۔
لینن کو وہ مارکس ملا جو اعلان کرتا ہے کہ تاریخ انسان خود بناتا ، اگرچہ وہ ایسے حالات میں کام کرتا ہے جنہیں اس نے خود پیدا نہیں کیا ، لیکن یہ حالات کسی فرضی “تاریخی قوانین” کے تابع نہیں ہوتے (جیسا کہ پلیخانوف سمجھتے تھے)، بلکہ یہ پچھلی طبقاتی جدوجہد کی میراث ہوتے ہیں۔اس مارکس میں کوئی تقدیر پرستی نہیں تھی۔
پلیخانوف سے نظریاتی انقطاع/ علیحدگی
اسی عرصے میں لینن کو یہ ادراک ہوا کہ پلیخانوف ، جن سے وہ 1904 میں سیاسی طور پر الگ ہو چکے تھے مگر فلسفیانہ طور پر ابھی تک ان سے متاثر تھے ، اس لیے مارکسزم کے بنیادی نکات کو سمجھنے میں ناکام رہے تھے۔
فلسفیانہ نوٹ بکس پلیخانوف پر تنقید سے بھری ہوئی ہیں ، خاص طور پر انہی نکات پر جن کا دفاع لینن پہلے مادیت اور تجربیت کے حوالے سے کرتے تھے۔
پلیخانوف پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے آئیڈیلزم (مثالیت) پر تنقید “جدلیاتی مادیت” کے بجائے "عامیانہ مادیت” کے نقطہ نظر سے کی۔ کہا گیا کہ انہوں نے فلسفے اور جدلیات پر شاید ہزار صفحات لکھے، مگر ہیگل کی منطق پر: "صفر”۔
لینن کا نتیجہ دو ٹوک تھا:
"مارکس کی کتاب سرمایہ کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں جب تک کہ ہیگل کی پوری منطق کا باریک بینی سے مطالعہ نہ کیا جائے۔”
اور یہ الزام صرف پلیخانوف تک محدود نہ تھا۔ لینن لکھتے ہیں:
"لہٰذا نصف صدی گزرنے کے بعد بھی کسی مارکسسٹ نے مارکس کو نہیں سمجھا!!!
واضح ہے کہ لینن اس میں خود کو اور اپنی سابقہ تحریروں کو بھی شامل کر رہے تھے۔ پلیکانوو پر سخت تنقید دراصل ایک گہری خود تنقید بھی تھی۔
نظریاتی شعور کی تبدیلی
پلیخانوف مادیت کی تشریح سے لینن کا انقطاع دراصل ان کی اپنی سابقہ فلسفیانہ شعور سے بھی انقطاع تھا۔
یہ کہنا درست نہیں کہ اس مطالعے سے پہلے لینن مکمل طور پر تقدیریت پسند تھے۔ اس کے برعکس، ان کی صفِ اوّل پارٹی (Vanguard Party) کا نظریہ اور پارٹی، شعور اور عوام کے تعلق کے بارے میں ان کا تصور پہلے ہی گہرے طور پر جدلیاتی تھا۔
وہ سوشلزم کو محض طبقاتی جدوجہد کا خودبخود "عکاس” نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے ایک ایسی چیز سمجھتے تھے جسے مزدوروں کی پارٹی عام طبقاتی کشمکش کے دائرے سے ، باہرکی طرف سے لے کر آتی ہے۔
لیکن یہ جدلیاتی تصور، جس نے بالشویک پارٹی کی تعمیر کو جنم دیا، ابھی تک پلیخانوف کے معرفتی نظریے میں موجود نظریاتی غلطیوں کی مکمل شعوری شناخت میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔
مصنف کے مطابق، انہی دو عناصر کے درمیان یہ غیر حل شدہ تضاد “مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت” کے متضاد پروگرام کی وضاحت کرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں فلسفیانہ تیاری اور بعد کی نظریاتی پختگی
یہ بات معروف ہے کہ لینن کی اس فکری بلوغت اور فلسفیانہ تبدیلی کی تشریح کئی مصنفین نے کی ہے ، خواہ ان کی سیاسی آراء ہم سے مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔
یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں، لیکن اتنا کہنا کافی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں فلسفیانہ مطالعہ لینن کے فکری ارتقاء میں سب سے زرخیز دور سے پہلے آیا۔
اسی عرصے میں انہوں نے سامراج اور جنگ پر تحقیق کی؛ عسکری مفکر وان کلاز وِٹس کے ہیگلی اندازِ فکر پر تبصرے کیے؛ قومی سوال پر بخارین جیسے بالشویکوں سے بحث کی، جو محکوم اقوام کے حقِ خود ارادیت کی مخالفت “عامیانہ مادیت” کی بنیاد پر کرتے تھے؛ اور مارکس و اینگلز کے ریاستی تصور کا مطالعہ کیا، جسے کاؤٹسکی جیسے میکانیکی مفسرین نے مسخ کر دیا تھا۔
یہ تمام مطالعات بعد میں "اپریل تھیسس” کی صورت میں سامنے آئے ، یعنی بالشویکوں کی “نظریاتی ازسرِنو مسلح کاری” ، اور اصل میں مستقل انقلاب کے ٹراٹسکی نظریے کی عملی قبولیت۔ یہی وہ نظریاتی تیاری تھی جس نے اکتوبر انقلاب کو ممکن بنایا۔ بلاشبہ یہ لینن کی زندگی کا سب سے اہم تاریخی لمحہ تھا ، اورساتھ محنت کش طبقے کی آزادی کی طویل تاریخ کا بھی ایک فیصلہ کن موڑ۔ کم از کم اس وقت تک، جب تک کہ ہم لینن کی نظریاتی وراثت سے مسلح ہو کر آئندہ انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار نہ کر دیں۔
(1) ۔ ریازانوف، کاؤٹسکی، پاروُس، لکسمبرگ وغیرہ کے درمیان ہونے والی بحث کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:
see the anthology Witnesses to Permanent Revolution (Brill, 2009), edited by D. Gaido and Richard B. Day
(2) یہ ایک بے بنیاد عمومی خیال ہے کہ مارکس کے مطابق انقلاب لازماً پہلے مغربی یورپ میں ہونا چاہیے تھا۔ درحقیقت مارکس اور اینگلز نے مثال کے طور پر کہا تھا کہ روسی انقلاب “مغرب میں ایک مزدور انقلاب کے لیے اشارہ بن سکتا ہے، تاکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کریں (…)”
(1848) See Manifesto of the Communist Party،
کئی تحریروں میں مارکس نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے کوئی ایسی “تاریخی- فلسفیانہ تھیوری” وضع کی ہو جو تمام ممالک پر ایک ہی راستہ لازم کر دے۔
اس ضمن میں 1877 میں Otiecestvennye Zapiski کے مدیران کے نام خط، اور 1881 میں روسی رہنما Vera Zasulich کو لکھا گیا خط ملاحظہ کیجیے۔ زاسولچ نے اس خط کو طویل عرصے تک پوشیدہ رکھا کیونکہ یہ مبینہ مینشویک آرتھوڈوکسی سے متصادم تھا۔
(3) اس دور میں روسی انقلاب کا بورژوا کردار لینن کے لیے ایک مسلمہ مفروضہ تھا۔
دیکھیے: Vladimir Lenin کی تصنیف
Two Tactics of Social Democracy in the Democratic Revolution (1905)۔
(4) یہی وہ نظریہ ہے جسے “غیر مساوی اور مربوط ترقی کا نظریہ” کہا جاتا ہے۔ اسے Leon Trotsky نے اپنی کتاب
History of the Russian Revolution (1932) میں پیش کیا۔
(5) سوئٹزرلینڈ سے لینن نے 6 مارچ 1917 کو پارٹی قیادت کو ایک ٹیلیگرام بھیجا:
” ہماری حکمتِ عملی: مکمل بداعتمادی، نئی حکومت کی کوئی حمایت نہیں؛ خاص طور پر کیرنسکی پر شک کیا جائے؛ پرولتاریہ کو مسلح کیا جائے اور دیگر جماعتوں سے کوئی قربت نہ رکھی جائے ۔”
اس کے بعد انہوں نے اسی مفہوم پر مبنی خطوط کا ایک سلسلہ تحریر کیا۔
Letters from a Distance)، جن میں سے صرف ایک خط کو اخبار Pravda میں، وہ بھی مختصر شکل میں، شائع کیا گیا۔
(6) خود Leon Trotsky نے اس بات کا طنزیہ انداز میں اعتراف کیا ہے کہ نئے پروگرام کو “ٹراٹسکائی” کہا گیا۔
(7)
-
S. Eliot،
The Waste Land (1923)۔
(8) Vladimir Lenin،
“April Theses”، مجموعہ تصانیف، جلد 24۔
(9) ۔ 12 اپریل کو پیٹروگراڈ کمیٹی میں پہلی رائے شماری کے دوران یہ تھیسس 13 کے مقابلے میں صرف 2 ووٹوں سے مسترد کر دیے گئے۔
لیکن ساتویں کل روسی پارٹی کانگریس (پیٹروگراڈ، 24–29 اپریل) میں لینن کے تھیسس کو اکثریت حاصل ہو گئی۔
تاہم یہاں بھی انقلاب کے سوشلسٹ کردار کے بارے میں مخصوص قرارداد کو 118 میں سے صرف 71 ووٹ ملے۔
اپریل کانفرنس کے تفصیلی تجزیے کے لیے دیکھیے:
مارسل لیبمان، La révolution russe (1967)؛
یا ژاں ژاک ماری، Lénine (2004)۔
(10). Vladimir Lenin،
Materialism and Empiriocriticism (1908، اشاعت 1909)۔
یہ بالشویکوں کے ایک حصے کے معرفتی مؤقف کے خلاف ایک جدلیاتی تنقید تھی، جس کی قیادت اناطولی لونچار سکی، ولادیمیر بازاروف اور الیگزینڈر بوگدانوف کر رہے تھے۔ بوگدانوف کی تین جلدوں پر مشتمل تصنیف Empiriocriticism (1904–1906) اسی بحث کا مرکز تھی۔ مصنف آئندہ کسی خصوصی مضمون میں اس بحث کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
(11) نادژدا کروپسکایا — بالشویک رہنما اور لینن کی رفیقِ حیات — اپنی کتاب My Life with Lenin میں لکھتی ہیں کہ نوجوان لینن نے سائبیرین جلاوطنی کے دوران ہیگل، خصوصاً Phenomenology of Spirit کا مطالعہ شروع کیا تھا۔ تاہم ان ابتدائی مطالعوں کے مزید شواہد محفوظ نہیں رہے۔
(12) Vladimir Lenin،
Philosophical Notebooks، مجموعہ تصانیف، جلد 38۔
اس ادارتی عنوان میں 1914–1915 کے آٹھ نوٹ بکس (جن میں سے تین ہیگل کی منطق پر ہیں) اور اس سے پہلے کی فلسفیانہ تحریریں شامل ہیں۔
(13) حوالہ سابق، صفحات 166–167۔
(14) خاص طور پر مائیکل لووی کے مطالعات ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں، مثلاً:
Dialectique et révolution (1973)؛
The Politics of Combined and Uneven Development: The Theory of Permanent Revolution (2010)؛
یا کیون اینڈرسن، Lenin, Hegel and Western Marxism (1995)۔
(15) وان کلاز وِٹس کی معروف تصنیف On War سے اقتباسات اور حواشی پر مشتمل لینن کی نوٹ بک مجموعہ تصانیف میں شامل نہیں۔ اس کا حالیہ اطالوی ایڈیشن:
L’arte dell’insurrezione (2010)۔
(16) 1915–1916 میں لینن کی بحث نام نہاد “سامراجی معاشیّت پسندی” یا “بوگی گروپ” (سوئٹزرلینڈ کے قصبے Baugy کے نام پر) کے خلاف تھی، جس میں بخارین، راڈیک، پیاتاکوف وغیرہ شامل تھے۔ یہ مباحث مجموعہ تصانیف کی جلد 23 میں موجود ہیں۔