دوراہے پر کھڑی امریکی سامراج کی سیاسی معیشت
ایڈوارڈو المیڈا (PSTU) برازیل اور ایسپی رامو (WV) امریکہ
9 فروری 2026
2025 کے اختتام پر امریکی سامراج کے منصوبہ سازوں کی جانب سے تین اہم اسٹریٹجک دستاویزات تیار کی گئیں۔ یہ دستاویزات بنیادی طور پر صدر کی ایما پر پیش کی جانے والی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی (NSS)ہے جو فارن ریلیشنز کونسل کی طرف سے مندرجہ ذیل نکات کے ساتھ کانگریس کو پیش کی گئی :
ٹاسک فورس برائے معاشی سلامتی ،
کل کی ٹیکنالوجیز کی دوڑ جیتنا”،
محکمہ دفاع/ جنگ کی “عوامی جمہوریہ چین سے متعلق فوجی و سلامتی کی فتح کیلئے ان تھک محنت کرنا۔
اگرمجموعی طور پر ان تینوں دستاویزات کو دیکھا جائے تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس میں امریکی سامراج کی عالمی پوزیشن غیر متنازعہ غلبے سے ہٹ کر ایک نئی عالمی ترتیب میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اگرچہ امریکہ اب بھی معاشی اور فوجی برتری رکھتا ہے، لیکن چین کی نمایاں تکنیکی پیش رفت اور اس کا اسٹریٹجک شعبوں پر کنٹرول تیزی سے فرق کو کم کر رہا ہے۔ تمام رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی معاشی نظام جمود کا شکار ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان تنازعات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں۔
کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) کی رپورٹ، جو امریکی حکومت کا نمایاں تھنک ٹینک فارم ہے، تسلیم کرتا ہے کہ تمام ممالک میں “معیشت اور قومی سلامتی کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔” قومی معیشتوں کو ریاستی سرمایہ کاری اور "صنعتی پالیسی” کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اسلحہ اور دفاعی شعبوں میں۔ 2018 کے بعد سے برآمدی پابندیوں کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو بڑھتی ہوئی معاشی جارحیت کی علامت ہے۔
تکنیکی بالادستی اور مصنوعی ذہانت کی جدوجہد
یہ دستاویزات امریکی سامراج کی معاشی پالیسی کے تین ستونوں کی وضاحت کرتی ہیں، جو اس کی بالادستی برقرار رکھنے کی بے تاب کوشش کا حصہ ہیں:
-
مصنوعی ذہانت (AI) پر مرکوز تکنیکی مسابقت کو فروغ دینا،
-
ٹیرف (محصولات) کی جنگ،
-
امریکہ کی دوبارہ صنعتی تشکیل (ری اِنڈسٹریلائزیشن)۔
نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی (NSS) واضح طور پر بیان کرتی ہے:
"امریکی قومی طاقت ایک مضبوط صنعتی شعبے پر منحصر ہے جو امن اور جنگ دونوں حالات میں پیداواری ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔”
اس مقصد کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ صنعتی پیداوار کو امریکی کنٹرول میں "براعظم امریکہ”ہی منتقل کیا جائے "اہم اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجیکل شعبوں” پر توجہ مرکوز کی جائے، "خصوصاً مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی اور کوانٹم کمپیوٹنگ پر، جو عالمی ترقی کو آگے بڑھاتے ہیں۔”یہ بات اہم ہے کہ یہ تینوں شعبے “دوہری استعمال (Dual-use) رکھتے ہیں، یعنی ان کے اطلاقات تجارتی اور فوجی دونوں شعبوں پر ہوتے ہیں۔
تکنیکی تنازع سامراج کے عمومی مستقبل اور بالخصوص امریکہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت امریکی معیشت غیر استحکامت کا شکار ہے کیونکہ “میگنیفیسنٹ سیون” کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ “مصنوعی ذہانت” میں قیاسی سرمایہ کاری، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، اور بڑے پیمانے پرپبلک نگرانی کی ٹیکنالوجیز ہیں۔
ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ تکنیکی جوا پوری معیشت میں اس طرح شامل ہوگا کہ متناسب منافع کی شرح کو یقینی بنا سکے۔ AI میں سرمایہ کاری کے وسیع بہاؤ نے اب تک امریکی اسٹاک مارکیٹ کو مسلسل ریکارڈ سطحوں تک پہنچایا ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے گرد ایک بلبلہ موجود ہے، جو حالیہ ماضی میں سرمایہ کاری کے بلبلوں سے بھی بڑا ہے۔ یہ اب بھی ایک جوا ہے جس میں بے پناہ امکانات اور بڑے خطرات دونوں شامل ہیں۔
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی کی بڑی اجارہ داریاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، امریکہ مجموعی سرمایہ کاری میں پیچھے ہے اور دیگر معاشی شعبوں میں پیداواریت کم ہے۔ ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ میں مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز(CFR) کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دس برسوں میں
"چینی حکومت نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور بایوٹیکنالوجی پر تقریباً 900 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جو اسی عرصے میں امریکی حکومت کے اخراجات سے تین گنا زیادہ ہیں۔”
چین کے ساتھ مسابقت ایک بار پھر اس تکنیکی دوڑ کا پس منظر ہے۔ امریکی سامراج سیمی کنڈکٹرز اور AI کے میدان میں اب بھی بالادست ہے، مگر چین جارحانہ انداز میں جواب دے رہا ہے اور “ڈیپ سیک” کے ذریعے دنیا کو حیران کر چکا ہے۔
چین الیکٹرک گاڑیوں، لیتھیم بیٹریوں، سولر پینلز اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (ڈرونز) میں امریکہ سے آگے ہے، اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں امریکہ کے مقابلے میں دوگنا سرمایہ کاری کرتا ہے۔
لاطینی امریکہ اور یورپ میں "بگ اسٹک” پالیسی، جس کا مقصد علاقوں اور وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، اس حقیقت کا نتیجہ ہے کہ چین مستقبل کی ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ویلیو چینز میں خود کو شامل کر کے اسٹریٹجک برتری حاصل کر چکا ہے۔
چین سے مقابلہ کرنے اور دوبارہ صنعتی ترقی کے لیے امریکہ کو پہلے اسٹریٹجک وسائل کی منڈیوں میں اپنی مراعات یافتہ حیثیت بحال کرنا ہوگی۔
CFR کے مطابق:
“امریکہ نایاب معدنیات (ریئر ارتھز) کے لیے 70 فیصد (بھاری ریئر ارتھز کے لیے 99 فیصد)، ڈیٹا سینٹر اور چِپ کے اجزاء (30 فیصد پرنٹڈ سرکٹ بورڈز، 60 فیصد کیمیکلز)، بایوٹیک اِن پٹس اور ادویات کی تیاری (80 فیصد کلیدی خام مواد، 33 فیصد عالمی ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء کی صلاحیت، اور 80 فیصد امریکی بایوٹیک کمپنیوں کا کم از کم ایک معاہدہ چین کے ساتھ)، اور کوانٹم آلات (لیزر ڈایوڈز، آئینے، ایمپلیفائرز) کے واحد سپلائرز کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے۔”
ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں چین کو NVIDIA چِپس کی برآمد کی اجازت دی۔ حکومت کے چیف AI افسر ڈیوڈ سیکس نے دلیل دی کہ چین کو جدید AI چِپس بھیجنے سے چینی حریفوں، مثلاً ہواوے، کو اس بات سے روکا جا سکتا ہے کہ وہ Nvidia اور AMD کے جدید ترین ڈیزائنز تک پہنچنے کے لیے اپنی دوگنی کوششیں کم کرے۔
یہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکی ناکہ بندی نے چین کو سیمی کنڈکٹر ترقی میں خود مختاری حاصل کرنے کی دوڑ کو مزید تیز کرنے پر مجبور کیا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ
ٹیرف (محصولات) کا نفاذ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ زوال کا شکار ہے۔ ماضی میں سامراج “آزاد تجارت” کے ذریعے اپنی معاشی بالادستی مسلط کرنے کے قابل تھا اور پھر اسی بنیاد پر امریکی ریاست اور عالمی اداروں (اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او) کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سیاسی، فوجی اور مالی بالادستی قائم کرتا تھا۔
آج “آزاد تجارت” چین کے حق میں ہے، جو مختلف شعبوں میں امریکہ سے بہتر اور سستی مصنوعات فروخت کرنے میں کامیاب ہے، مثلاً ذرائع پیداوار کی تیاری، الیکٹرک گاڑیاں، سولر پینلز وغیرہ۔ یہی ٹرمپ کی ٹیرف جنگ کی بنیاد ہے، جو کمزور معیشتوں کا ایک دفاعی اقدام ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کی سامراجی قوم پرستی دراصل اس کے زوال کا اظہار ہے۔
اور اس سے چین کی رفتار سست نہیں ہوئی۔ 2025 میں چین نے نومبر تک ایک ٹریلین ڈالر کی برآمدات کا ہدف عبور کر لیا، جو 2024 کے مقابلے میں 21.7 فیصد اضافہ تھا۔ اس نے امریکہ کو کم اور باقی دنیا کو زیادہ مال فروخت کیا۔ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے باعث چین کی امریکہ کو برآمدات تقریباً 20 فیصد کم ہوئیں۔ لیکن چین نے امریکی سویابین اور دیگر مصنوعات کی خریداری کم کر دی اور اس کے باوجود امریکہ کو اپنی خرید سے تین گنا زیادہ مال کی فروخت جاری رکھی۔
اصل میں، امریکی سامراج دفاعی اقدام کے طور پر ٹیرف زوال کو روکنے میں ناکام رہا۔ وہ عالمی تجارت کو متاثر ضرور کرتا ہے ، لیکن زوال کو پلٹ نہیں سکتے۔
امریکہ میں ٹرمپ کی دوبارہ صنعتی تشکیل (ری اِنڈسٹریلائزیشن) کی پالیسی ایک پیچیدہ جوا ہے۔ یہ جزوی طور پر کامیاب ہو سکتی ہے اگر وہ سیمی کنڈکٹر کی پیداوار اور مصنوعی ذہانت سے منسلک ڈیٹا سینٹرز کو واپس امریکہ منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ مجموعی طور پر عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کو الٹا سکے، کیونکہ اسے بین الاقوامی ویلیو چینز کو توڑ کر دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا، جن میں وہ اجزاء بھی شامل ہیں جن کی پیداوار اب عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب اخراجات میں عمومی اضافہ ہوگا جسے امریکہ کی بڑی اجارہ دار کمپنیاں برداشت نہیں کر سکیں گی۔
مجموعی طور پر، ٹرمپ کی معاشی پالیسی امریکی بالادستی کی بحالی کی ضمانت نہیں دیتی۔ اس کی سب سے بڑی شرط مصنوعی ذہانت میں غلبہ حاصل کرنا ہے، جو مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ شرط ٹیرف جنگ اور دوبارہ صنعتی تشکیل کی ممکنہ ناکامی کی تلافی کر سکے گی یا نہیں۔
تجارتی جنگ کے تناظر میں، سوشلسٹوں کے لیے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ مزدور تحریک کو سمجھائیں کہ بورژوا حکومتوں کی تجارتی پالیسی سرمایہ دار طبقے کے مفاد کے لیے بنائی جاتی ہے، نہ کہ مزدوروں کے لیے۔ چاہے “آزاد تجارت” ہو یا تحفظ پسندی، پالیسی کا نفاذ حکمران طبقے کے منافع کو محفوظ اور بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی تضادات نہ تو ٹیرف سے حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی فوجی دھمکیوں سے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غیر یقینی حالات اور مہنگائی کی لہر کا واحد حل طبقاتی جدوجہد ہے، ایسے پروگرام کے ساتھ جو مزدوروں کے معیشت پر کنٹرول سنبھالنے کی ضرورت کو اجاگر کرے۔
امریکہ جیسے سامراجی ممالک میں تحفظ پسند تجارتی پالیسیاں شاونزم کے عروج اور تارکین وطن و دیگر مظلوم طبقات پر حملوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ مزدور یونینوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان پالیسیوں کی حمایت نہ کریں، کیونکہ یہ عالمی سطح پر سرمایہ داری کے جاری حقیقی معاشی بحران کا حل نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی تمام تنظیموں میں تجارتی جنگوں سے پیدا ہونے والی قوم پرستانہ حب الوطنی اور غیر ملکی دشمنی (زینوفوبیا) کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ اصل راستہ یہ ہے کہ مزدور اور مظلوم طبقات اپنی تنظیموں اور برادریوں میں سرمایہ دار طبقے سے سیاسی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کریں، تاکہ ایک ایسا پروگرام تشکیل دیا جا سکے جو ان کی فوری ضروریات کا جواب دے۔
فوجی تنازع اور اسلحہ کی دوڑ
"وہ دن گزر چکے ہیں جب ریاستہائے متحدہ پورے عالمی نظام کو اٹلس کی طرح اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھا۔”
یہ جملہ اس تاثر کو جنم دے سکتا ہے کہ سامراج فوجی میدان میں عالمی بالادستی کی جدوجہد ترک کر رہا ہے۔ یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے اس جدوجہد کے ذرائع اور طریقہ کار بدل دیے ہیں اور انہیں اپنے زوال کے مطابق ڈھال لیا ہے۔
سب سے پہلے، ٹرمپ فوجی بالادستی کی جدوجہد پر زور برقرار رکھتا ہے:
"ہم دنیا کی سب سے طاقتور، مہلک اور تکنیکی طور پر جدید ترین فوج بھرتی کرنا، تربیت دینا، لیس کرنا اور تعینات کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں، جنگوں کو روک سکیں اور اگر ضرورت پڑے تو انہیں جلد اور فیصلہ کن طور پر جیت سکیں، اور اپنی افواج کے کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ… ہم دنیا کی سب سے مضبوط، معتبر اور جدید جوہری بازدار قوت چاہتے ہیں، نیز جدید ترین میزائل دفاعی نظام، جس میں امریکی سرزمین کے لیے ایک ‘گولڈن ڈوم’ بھی شامل ہو، تاکہ امریکی عوام، بیرونِ ملک امریکی اثاثوں اور امریکی اتحادیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ امریکہ کسی بھی ملک کو اس حد تک غالب آنے کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ہمارے مفادات کو خطرے میں ڈال دے۔ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی اور علاقائی طاقت کے توازن کو برقرار رکھیں گے، تاکہ کسی غالب حریف کے ابھرنے کو روکا جا سکے۔”
دوسری بات یہ ہے کہ سامراج کی ایک خصوصیت اب یہ بن چکی ہے کہ اس کے پاس اتنے وسائل نہیں رہے کہ وہ دنیا کے اہم ترین مقامات پر فوجی دستے تعینات کر کے “عالمی پولیس مین” کا کردار ادا کرتا رہے۔
فوجی تصادم پر یہ توجہ ایک مسلسل بڑھتے ہوئے اور حد سے زیادہ فوجی بجٹ میں ظاہر ہوتی ہے، حالانکہ ملک شدید قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور 2020 سے عوامی قرضہ جی ڈی پی سے زیادہ (118 فیصد سے 126 فیصد کے درمیان) ہو چکا ہے۔ امریکہ بدستور دنیا میں سب سے بڑا فوجی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔ 2024 میں بائیڈن کے دور میں یہ 824 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ 2026 میں 900 ارب ڈالر تک پہنچ گیا؛ اور ٹرمپ نے مالی سال 2027 کے لیے اسے 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی تجویز دی ہے،جو تاریخ میں بے مثال ہے۔
چین دوسرے نمبر پر ہے، جس کا 2025 میں کل فوجی خرچ 246 ارب ڈالر تھا اور گزشتہ دو دہائیوں سے سالانہ 7 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم، دیگر ذرائع، جیسے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI)، کے مطابق چین کا حقیقی دفاعی خرچ 2024 میں تقریباً 318 ارب ڈالر تھا، جبکہ ایک اور مطالعہ اسے اس سے بھی زیادہ، یعنی 471 ارب ڈالر تک بتاتا ہے۔
امکان ہے کہ 2027 تک امریکہ چین کے ساتھ جنگ میں ملوث ہو سکتا ہے۔ یہ تاریخ امریکی اسٹریٹجک فوجی منصوبہ بندی کی دستاویزات میں اس ہدف کے طور پر شامل رہی ہے جس تک امریکہ چین کی اسلحہ سازی کے مقابلے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔
امریکی صنعتی جنگی مشین پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے یوکرین کی جنگ اور فوجی امدادی پیکیجز سے فائدہ اٹھا کر اپنی پیداوار کو بحال کیا ہے، جسے اب چین کے ساتھ مقابلے نے مزید تقویت دی ہے۔ یوکرین کی جنگ کے آغاز سے امریکہ نے 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولوں کی پیداوار دوگنی کر دی ہے، اور 2025 تک ماہانہ 100,000 گولے تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
تاہم، چین کی تیز رفتار فوجی توسیع، خصوصاً بحری طاقت میں اضافہ، امریکہ کی اسٹریٹجک برتری کو چیلنج کر رہا ہے، خاص طور پر تائیوان سے متعلق ممکنہ تنازعات میں۔ چین اپنی بحریہ کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے اور امریکہ سے بڑا بیڑا رکھنے کا خواہاں ہے۔ امریکہ اس رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ چینی شپ یارڈز کی پیداواری صلاحیت امریکہ سے کہیں زیادہ ہے۔ پینٹاگون کے مطابق چین 2025 تک 400 اور 2030 تک 440 جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ امریکی بحریہ کا 2022 کا نیویگیشن پلان 2045 تک 350 عملہ بردار جہازوں تک پہنچنے کا ہدف رکھتا ہے!
اس پس منظر میں امریکی سامراج فعال طور پر علاقائی حامیوں کو “بھرتی اور متحرک” کر رہا ہے تاکہ وہ یہ رد ِ انقلابی کردار ادا کریں۔ اس میں پیوٹن کے روس کے کردار کی ازسرِنو ترتیب شامل ہے، جسے ٹرمپ چین کے بلاک سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اس نے یوکرین کے بارے میں اپنا مؤقف بدلا اور یورپ کو روس کے بارے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
اسی طرح، ٹرمپ یورپی سامراج سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ نیٹو کا بوجھ کم کرنے کے لیے فوجی اخراجات (بجٹ کا 5 فیصد تک) بڑھائے۔
مشرقِ وسطیٰ میں، ٹرمپ اسرائیل کےرد ِ انقلابی علاقائی کردار پر شرط لگا رہا ہے، اور ساتھ ہی ترکیہ، مصر اور خلیجی بادشاہتوں کے کردار پر بھی۔
اسی تناظر میں “ابراہیم معاہدے” بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے ، جو سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کو اسرائیل کے ساتھ معاشی طور پر ضم کرنے کی راہ ہموار کرے گا، ان ممالک کے علاوہ جو پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں، جیسے متحدہ عرب امارات وغیرہ ۔
یہ سب چین کی معاشی پیش رفت کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے، جو پہلے ہی اسرائیل اور غالباً خلیجی ممالک کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔
یہ ٹرمپ کے لیے ایک نئے ردِ انقلابی اتحاد کو بھی مضبوط کرے گا۔
یورپی یونین پر دباؤ یا تخریب کاری؟
اس نئے عالمی نظام میں یورپ کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، جہاں وہ نہ تو خود ایک آزاد معاشی و سیاسی بلاک کے طور پر سامنے آ سکا ہے اور نہ ہی نیٹو کے اندر امریکہ کا مساوی شراکت دار بن سکا ہے۔ اس کی ایک وجہ خطے کا معاشی زوال بھی ہے۔
ماہرِ معاشیات مائیکل رابرٹس کے مطابق:
“یورو زون کی شرحِ نمو اگلے سال 0.2 فیصد پوائنٹس کم ہو کر 2026 میں 1.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔”
یہ عالمی مجموعی پیداوار (GDP) کی متوقع شرحِ نمو 2.6 فیصد سے کہیں کم ہے۔ یورپی سامراج تیزی سے اپنی رسمی نوآبادیاتی باقیات، خصوصاً افریقہ میں، کھو رہا ہے، جس کے نتیجے میں بین السامراجی کشمکش میں مزید علاقے قبضے کے لیے سامنے آ رہے ہیں۔
2022 میں شروع ہونے والی یوکرین جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ روس کے خلاف اپنی دفاعی صلاحیت کے معاملے میں یورپ پہلے کے مقابلے میں بہت کمزور ہو چکا ہے۔ امریکہ براہِ راست پیوٹن کے ساتھ یوکرین کی تقسیم پر مذاکرات کر رہا ہے، اور وہ بھی پیوٹن کو اس کے اثر و رسوخ کے دائرے کو برقرار رکھنے کی اجازت دے کر، اس حکمت ِ عملی نے یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے کمزور پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے ۔ آج روس یورپ میں محدود پیمانے پر فوجی “تخریب کاری” کی کارروائیاں کر رہا ہے، جن کا یورپی ردِعمل بہت کمزور ہے، سوائے اس کے کہ یورپی یونین کے ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ کر کے اپنی دفاعی تیاری بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جیسا کہ سوشلسٹ تجزیہ کار مائیکل پروبسٹنگ نشاندہی کرتے ہیں، یہ ممکن ہے کہ ٹرمپ کا مقصد “یورپی یونین کو تباہ کرنا اور یورپی ریاستوں میں امریکہ نواز حکومتیں قائم کرنا” ہے، جس کے لیے وہ “مہاجرت کے ‘خطرات’ اور ‘خودمختار قوموں’ کے دفاع کے نام پر دائیں بازو کی قوم پرستانہ بیان بازی” استعمال کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر یورپی یونین ٹوٹ جاتی ہے تو قومی ریاستوں کو امریکہ سے “انفرادی طور پر، یعنی کمزور مذاکراتی پوزیشن سے” نمٹنا پڑے گا۔ اور اگرچہ “حقیقت پسندانہ طور پر امریکہ تمام یورپی ریاستوں کو باج گزار نہیں بنا سکتا، لیکن وہ کم از کم چند ممالک” آسٹریا، ہنگری، اٹلی یا پولینڈ کو اس سمت میں لانے کی امید رکھتا ہے، جیسا کہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی (NSS) کے توسیع شدہ ورژن میں ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم یورپی یونین کا مستقبل ابھی طے ہونا باقی ہے۔
بہرحال، ایک بات واضح ہے کہ امریکہ اب یورپ کو اپنا بنیادی شراکت دار نہیں سمجھتا۔ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی اور اس کے زیادہ مفصل، ابھی غیر شائع شدہ ورژن میں مختلف کثیرالجہتی رابطہ اداروں کے قیام یا احیاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس میں “کور 5” (C5) اتحاد کا تصور بھی شامل ہے، جس میں امریکہ، چین، روس، بھارت اور جاپان شامل ہوں گے۔ C5 کا خیال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اب یورپی یونین کے ساتھ مل کر دنیا پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتا۔ امریکی حکمران طبقہ یورپی یونین کو روس اور چین کے ساتھ، ہر ایک کے اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں، معاشی تعلقات کی ازسرنو تنظیم میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
یورپ کا یہ زوال قومی سلامتی کے دستاویز میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، جس پر “تہذیبوں کی جنگ” جیسی معروف نظریاتی پردہ پوشی بھی چڑھائی گئی ہے:
“برِاعظم یورپ کا عالمی GDP میں حصہ جو 1990 میں 25 فیصد تھا کم ہو کر، آج 14 فیصد رہ گیا ہے ، جس کی ایک وجہ قومی اور بین الاقوامی ضوابط ہیں جو تخلیقی صلاحیت اور محنت کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن یہ معاشی زوال اس سے بھی زیادہ سنگین خطرے کے سامنے ہیچ ہے، یعنی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ۔ یورپ کو درپیش اہم مسائل میں یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی سرگرمیاں شامل ہیں جو سیاسی آزادی اور خودمختاری کو کمزور کرتی ہیں، مہاجرت کی پالیسیاں جو برِاعظم کو بدل رہی ہیں اور تنازعات کو جنم دے رہی ہیں، اظہارِ رائے کی آزادی پر سنسرشپ اور سیاسی اپوزیشن کا جبر، شرحِ پیدائش میں کمی، اور قومی شناخت اور خود اعتمادی کا فقدان۔”
دوسرے الفاظ میں، یورپ کا زوال ایک حقیقت ہے، اور اس کی جڑیں یورپی یونین اور لبرل جمہوریت کی حکومتوں میں بتائی جاتی ہیں، جنہیں انتہائی دائیں بازو چیلنج کرتا ہے۔ امریکی سامراج یورپی سامراجی ممالک کے ساتھ وہ سلوک نہیں کر سکتا جو وہ جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ کرتا ہے، لیکن وہ کھلے عام یورپی یونین کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ہر ملک سے علیحدہ علیحدہ مذاکرات کر سکے، اور یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے مہاجرین کے خلاف مہم ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، جو یورپی انتہائی دائیں بازو کا بنیادی سیاسی نعرہ ہے۔
عالمی طبقاتی جدوجہد کے لیے نتائج؛ قطبیت میں مزید اضافہ ہوگا
یہ ناقابلِ تردید ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک میں ایک انتہائی دائیں بازو کی حکومت ، عالمی سطح پر گہرے اور سخت اثرات مرتب کرے گی۔ معاشی دباؤ، فوجی وسائل، اور سیاسی و نظریاتی اثر و رسوخ پوری دنیا میں سختی کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔
لیکن جو لوگ اس حکمتِ عملی کے اطلاق سے یکطرفہ نتائج اخذ کرتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، امریکہ محض غیر معاشی اقدامات، جیسے ٹیرف جنگ، کے ذریعے اپنے زوال پر قابو نہیں پا سکتا۔ یا تو وہ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مہارت اور ان کی توسیع میں پیش رفت کرے گا، یا پھر اس کا زوال مزید گہرا ہوگا اور چین کو مزید فائدہ پہنچے گا۔
طبقاتی جدوجہد کے حوالے سے بھی یہی بات درست ہے۔ اس حکمتِ عملی کے نفاذ سے پیدا ہونے والی شدید سماجی و معاشی قطبیت سیاسی قطبیت میں اضافے اور طبقاتی جدوجہد کی شدت میں مزید اضافہ کرے گی۔ وینزویلا پر حملہ—جو شاید ایک سلسلے کی پہلی کڑی ہو—اسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔
غزہ کے خلاف اسرائیل کی نسل کشانہ جارحیت نے دنیا بھر میں فلسطینی جدوجہد کی حمایت میں تاریخی اضافہ کیا ہے، حتیٰ کہ اٹلی میں پہلی بار عام ہڑتال جیسے مظاہر بھی سامنے آئے ہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں میں ایسی تحریکیں ابھر رہی ہیں جو عوامی دھماکوں کا باعث بن رہی ہیں، جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والے واقعات، جو اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
حتیٰ کہ خود امریکہ میں بھی ٹرمپ کے خلاف مزید برآں، دنیا کے کئی ممالک میں صفِ اول کے کارکنوں کے درمیان ایک جوش و خروش ابھر رہا ہے، جو انقلابی پروگراموں کے لیے جگہ کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔
جیسا کہ مورینو نے کہا تھا: “سامراج وہ نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے، بلکہ وہ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔” اور امریکی سامراج کے یہ اقدامات، جو اس حکمتِ عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں، عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد میں نئے ہنگاموں کو جنم دے سکتے ہیں۔
“نو کنگز” کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تحریکیں، نیز نیویارک سٹی اور دیگر ریاستوں میں اس کی انتخابی شکستیں، ظاہر کرتی ہیں کہ سیاسی قطبیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لاطینی امریکہ میں 2018 اور 2019 کی طرح دوبارہ بڑے انقلابی ابھار سامنے آ سکتے ہیں، جو نہ صرف خطے کی بورژوا حکومتوں بلکہ خود ٹرمپ کے ساتھ بھی براہِ راست تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔