Wednesday, March 25, 2026
Home World گرین لینڈ کو ہاتھ مت لگاؤ! نیٹو کا خاتمہ کرو!

گرین لینڈ کو ہاتھ مت لگاؤ! نیٹو کا خاتمہ کرو!

گرین لینڈ کو ہاتھ مت لگاؤ! نیٹو کا خاتمہ کرو!

گرین لینڈ کی تقریباً 60 ہزار آبادی میں سے قریباً 90 فیصد افراد مقامی گرین لینڈک اِنُوئٹ نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی نہایت قابلِ نفرت دھمکیاں اس نسل پرستانہ اور آبادکار نوآبادیاتی ذہنیت کو پوری بدصورتی کے ساتھ عیاں کرتی ہیں جو اس شخص کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے، اور جسے وہ اور اس کے پیروکار فخر سے سراہتے یا بیان کرتے  ہیں۔

ایم۔ اے۔ الغریب
27 جنوری 2026

نئے سال کے ابتدائی ہفتوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں اب بھی خطرناک صورتِ حال کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں ان بیانات کو کبھی مذاق اور کبھی یورپ پر دباؤ ڈالنے کی ایک “مذاکراتی چال” سمجھا گیا، مگر اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ کوئی مذاق نہیں تھا۔ کچھ وقت کے لیے گرین لینڈ ہی نہیں بلکہ یورپ، شمالی امریکا اور درحقیقت پوری دنیا میں یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا تھا کہ ٹرمپ ایک اور عالمی جنگ چھیڑ سکتا ہے۔ بعد ازاں اس نے عسکری دھمکیوں میں کمی کی، مگر یہ صرف اس کے بعد ہوا جب اس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران غیرمعمولی جنگجویانہ بیانات دیے۔

ٹرمپ نے 21 جنوری کو نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے سے مذاکرات کے بعد دعویٰ کیا کہ انہیں “وہ سب کچھ مل گیا ہے جو ہم چاہتے تھے”، جس کے بعد اس نے وقتی طور پر پسپائی اختیار کی۔ تاہم اس نام نہاد “مستقبل کے معاہدے کے فریم ورک” کی تفصیلات تاحال غیر واضح ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں فوجی اڈوں کی ملکیت اور معدنی وسائل کی کان کنی کے مخصوص حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ 25 جنوری کو گرین لینڈ کی اعلیٰ عہدیدار ناجا ناتھانیئلسن نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کو “ابھی تک کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی” اور یہ کہ “گرین لینڈ کی خودمختاری ترک کرنا فی الحال زیرِ غور نہیں”۔

کوئی غلط فہمی نہ رہے: گرین لینڈ کے خلاف خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ ٹرمپ کسی دن اچانک یوٹرن لے لے۔ جس طرح وینزویلا کے خلاف اس کی جارحیت اور نیکولس مادورو اور سیلیا فلوریس کو اغوا کرنے کی دھمکیاں اور پھر اغواکاری، اسی طرح گرین لینڈ کے خلاف یہ رویہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی سامراج تیزی سے غیر متوازن، شخصی اور نتیجتاً زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی سامراج ہمیشہ سے دنیا کے لیے خطرہ رہا ہے

آج بھی لبرل حلقوں میں امریکی سامراج کے کسی مبینہ “سنہرے دور” کو  یاد کیا جاتا ہے  ، حالانکہ وہ “سامراج” کے بجائے “قواعد پر مبنی عالمی نظام” جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کے مقامی باشندے، خاص طور پر امریکا کے مقامی باشندے اور افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا کے کروڑوں سیاہ فام و براؤن  عام عوام بخوبی جانتے ہیں کہ امریکا نے ہمیشہ قومی خودمختاری پامال کی اور سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام کیا۔

گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملے میں بھی امریکی قیادت کے محرکات خالصتاً مادی اور سیاسی ہیں۔ معدنی دولت، فوسل فیولز اور نایاب دھاتوں کی لوٹ مار کھلے عام زیرِ بحث ہے۔ کیوبا کے خلاف وزیرِ خارجہ روبیو کی طرف سے کیوبن حکومت گرانے کی دھمکیاں بھی اسی طویل محاصرے کا تسلسل ہیں جو امریکی سامراج گزشتہ چھ دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

کیا اس بار کچھ مختلف ہے؟

اگرچہ امریکی سامراج کے مواد (content) میں تسلسل ہے، مگر اس بار اس کی شکل (form) میں ایک خطرناک تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں امریکی صدور اپنی جارحیت کو “جمہوریت”، “آزادی” اور “انسانی حقوق” کے خوشنما نعروں میں چھپاتے تھے۔ اس بار ٹرمپ اور اس کے قریبی ساتھی کھلے عام طاقت، جبر اور مفاد کی زبان بول رہے ہیں۔

2025 کے آخر میں جاری ہونے والی امریکی اسٹریٹیجک دستاویزات دنیا کو سوشل ڈارونزم اور کارل شمٹ کے نظریۂ( سب سے موزوں کی بقا) طاقت کی عینک سے دیکھتی ہیں۔ ٹرمپ کے فاشسٹ نظریہ ساز اسٹیفن ملر کے الفاظ میں:
“دنیا طاقت، جبر اور قوت کے قوانین کے تحت چلتی ہے۔”

یعنی امریکی سامراج، جو اب عالمی بالادستی برقرار رکھنے سے قاصر ہوتا جا رہا ہے، زیادہ کھلے اور سخت تشدد کی طرف بڑھ رہا ہے۔

نیٹو بحران میں،  اور چینی سامراج ابھرتا ہوا

نیٹو کے اندرونی تضادات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک اور کینیڈا میں امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ، امریکی ٹیک کمپنیوں پر پابندیوں کی باتیں، اور چین کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغربی سامراجی اتحاد میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کا ڈیووس میں دیا گیا خطاب—جس میں اس نے نیٹو کے “ٹوٹنے” اور درمیانی طاقتوں کے نئے اتحاد کی بات کی—اسی بحران کا اظہار ہے۔ تاہم سرمایہ دارانہ سیاست ان تضادات کا حل پیش نہیں کر سکتی۔ اس کا واحد حل عالمی، انقلابی اور سوشلسٹ جدوجہد ہے۔

گرین لینڈ کے لیے حقِ خودارادیت

ان تمام بحثوں میں اکثر یہ حقیقت نظرانداز ہو جاتی ہے کہ گرین لینڈ کی اکثریتی آبادی مقامی اِنُوئٹ قوم پر مشتمل ہے۔ ٹرمپ کی دھمکیاں نہ صرف نسل پرستانہ ہیں بلکہ ڈنمارک کی اپنی نوآبادیاتی تاریخ بھی بے نقاب کرتی ہیں۔ ڈنمارک نے 18ویں صدی سے گرین لینڈ پر قبضہ جما رکھا ہے اور 1990 کی دہائی تک جبری مانعِ حمل پروگرام جیسے جرائم کیے۔

1979 میں گرین لینڈ کو خودمختار حیثیت ملی۔ 2024 میں آزادی کی حمایت 60 فیصد تک پہنچ چکی تھی، مگر امریکی دھمکیوں کے بعد عوام نے وقتی طور پر ڈنمارک کو کم تر برائی سمجھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ چھوٹی آبادی اور دفاعی کمزوری کے باعث گرین لینڈ امریکی سامراج کے لیے آسان شکار بن سکتا ہے۔

نیٹو کا خاتمہ—محنت کش طبقے کے ہاتھوں

اگر نیٹو زوال پذیر ہے تو انقلابی سوشلسٹ اس سامراجی ٹولے پر آنسو نہیں بہائیں گے۔ نیٹو گزشتہ 80 سال سے دنیا بھر میں کمیونزم اور قومی آزادی کی تحریکوں کا دشمن رہا ہے۔

ہم ٹرمپ اور میگا فاشزم کے خلاف ہر جدوجہد کا حصہ ہیں، مگر ساتھ ہی واضح کرتے ہیں کہ نیٹو کا خاتمہ صرف اسی صورت انسانیت کے حق میں ہوگا جب یہ عوامی، طبقاتی اور سوشلسٹ تحریکوں کے ذریعے ہو۔ بصورتِ دیگر یہ دنیا کو نئی سامراجی “اثر کے دائروں” میں بانٹ دے گا۔

جیسا کہ ہم نے یوکرین پر روسی حملے کے وقت کہا تھا:
“جس طرح محنت کش طبقہ ہی سماجی دولت پیدا کرتا ہے، اسی طرح وہی واحد قوت ہے جو مستقل طور پر جنگوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔”

 

RELATED ARTICLES

(PSTU)  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی اپیل 

  11 فروری 2026 یونائیٹٹد سوشلسٹ پارٹی  کے نیشنل صدر، جوزے ماریا دے المیڈا کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت 11 فروری کو منعقد کی گی۔...

پھانسی گھاٹ سے عوامی اقتدار تک: مقبول بٹ کی ادھوری انقلابی وصیت

 مقبول بٹ (1938–1984)  بیسویں صدی کے اُس عہد میں ابھرے جب 1947 کا نامکمل سوال ایک مستقل سیاسی و عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہو...

 پاکستان میں خودکش حملوں کا نظریاتی و سیاسی جائزہ

محنت کش تحریک(ادارت)  6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے  ترلائی میں واقع، ایک شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں کم...

Most Popular

(PSTU)  نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی اپیل 

  11 فروری 2026 یونائیٹٹد سوشلسٹ پارٹی  کے نیشنل صدر، جوزے ماریا دے المیڈا کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت 11 فروری کو منعقد کی گی۔...

پھانسی گھاٹ سے عوامی اقتدار تک: مقبول بٹ کی ادھوری انقلابی وصیت

 مقبول بٹ (1938–1984)  بیسویں صدی کے اُس عہد میں ابھرے جب 1947 کا نامکمل سوال ایک مستقل سیاسی و عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہو...

 پاکستان میں خودکش حملوں کا نظریاتی و سیاسی جائزہ

محنت کش تحریک(ادارت)  6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے  ترلائی میں واقع، ایک شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں کم...

شاویزازم کا عروج اور زوال

تحریر: آئی ڈبلیو ایل-ایف آئی (IWL-FI) کی ادارت فروری 4، 2026 (اصل تحریر: ستمبر 2014 میں شائع ہوئی) دنیا بھر کی زیادہ تر بائیں بازو کی تنظیمیں...

Recent Comments