تحریر: آئی ڈبلیو ایل-ایف آئی (IWL-FI) کی ادارت
فروری 4، 2026
(اصل تحریر: ستمبر 2014 میں شائع ہوئی)
دنیا بھر کی زیادہ تر بائیں بازو کی تنظیمیں کیوبا اور وینزویلا کی حکومتوں کی حمایت کرتی ہیں۔ تاہم یہ حمایت گزشتہ دہائی میں اپنے عروج پر تھی اور اب واضح طور پر زوال پذیر ہے، کیونکہ یہ حکومتیں شدید بحران کا شکار ہو چکی ہیں۔
اس حمایت کا عالمی اہمیت—جسے ہم “کاسترو- شاویزازم ” کہیں گے— سمجھنا انتہائی اہم ہے۔ چونکہ کیوبا اور وینزویلا کی حمایت کرنے والی جماعتیں اور تحریکیں بہت مختلف نوعیت کی ہیں، اس لیے ہم کاسترو- شاویزازم کی کسی بین الاقوامی تنظیم (جیسے ماضی میں اسٹالنزم کا عالمی ڈھانچہ تھا) یا ایک متحد نظریاتی دھارے کے طور پر درجہ بند نہیں کر سکتے۔ یہ مختلف النوع جماعتیں، تنظیمیں، تحریکیں اور حکومتیں ہیں، جن کا اصل اور خصوصیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان میں سے کچھ شاویزازم کے بورژوا قوم پرستانہ ماڈل، کاسترو ازم کی بوناپارٹسٹ آمریت اور طبقاتی مفاہمت کو قبول کرتی ہیں، جبکہ کچھ صرف ان حکومتوں کی حمایت تک محدود ہیں۔
کیوبا اور وینزویلا کی حکومتیں نہ تو محنت کش طبقے کی حکومتیں ہیں (اور نہ ہی چھوٹی بورژوا اصلاح پسند حکومتیں)۔
ان کی ابتدا مختلف تھی، لیکن آج یہ دونوں سرمایہ دار ریاستوں میں بورژوا حکومتیں ہیں۔
کاسترو ازم ایک چھوٹی بورژوا تحریک سے ابھرا جس نے ایک انقلابی فریضہ انجام دیا: اقتدار پر قبضہ اور بورژوازی کی ضبطی کی ۔ بعد میں اسی قیادت نے کیوبا میں سرمایہ داری کی بحالی کی قیادت کی اور خود بورژوا بن گئی۔ کاسترو آمریت ایک سرمایہ دار، بحالی کے بعد کی ریاست پر کھڑی ہے۔
شاویزازم بھی ایک چھوٹی بورژوا تحریک تھی جو اقتدار میں آئی اور اس نے ایک نئی بورژوازی پیدا کی۔ مادورو وینزویلا کی بورژوا ریاست میں ایک بوناپارٹسٹ حکومت کی قیادت کر رہا تھا۔ یہ دراصل بورژوا قوم پرستی کی ایک شکل ہے، جیسے ارجنٹائن میں پیرونزم، پیرو میں اپرازم، یا مصر میں ناصرازم۔
کیوبا قطعی طور پربیسویں صدی کا “آخری سوشلسٹ قلعہ” نہیں اور نہ ہی وینزویلا میں کبھی سرمایہ داری ضبط کی گئی۔
“اکیسویں صدی کا سوشلزم” محض پروپیگنڈا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
اسٹالنزم پہلے ہی انقلابی تحریک کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے، جب اس نے آمریتوں کو سوشلزم کے مترادف بنا کر پیش کیا۔ یہ قیادتیں محنت کشوں، عوام اور طلبہ کی تحریکوں پر انحصار کرتی ہیں، لیکن ان حکومتوں کی حمایت—جو اکیسویں صدی کے آغاز میں اپنے عروج پر تھی—اب واضح طور پر کم ہو رہی ہے۔
1۔ کیوبا: انقلاب سے سرمایہ داری کی بحالی تک
کیوبن انقلاب نے لاطینی امریکہ کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ ایک چھوٹے سے جزیرے نے، جو امریکہ کے ساحل سے چند سو کلومیٹر دور تھا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ضبط کر لیا اور سرمایہ دار معیشت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد دوبارہ نہیں ہوا۔
کیوبا نے پہلی بار لاطینی امریکہ میں یہ دکھایا کہ سرمایہ داری کا متبادل کیا ہوتا ہے۔
جو چیز پہلے صرف نظری بحث تھی، وہ ایک عملی تجربہ بن گئی۔ کیوبا براعظم کے غریب ترین اور بدحال ترین ممالک میں سے ایک تھا۔ انقلاب اور ضبطگی کے بعد بے روزگاری اور بے گھری ختم ہو گئی۔ ہر شخص کو خوراک، تعلیم اور صحت کی سہولت ملی۔ اعلیٰ معیار کی مفت تعلیم اور علاج دستیاب ہوا۔ یہ تبدیلی کھیلوں میں بھی نظر آئی، جہاں ایک چھوٹا سا جزیرہ امریکہ جیسے ملک کا مقابلہ کرنے لگا۔
یہ لاطینی امریکی عوام اور انقلابی کارکنوں کے شعور کے لیے بے حد اہم تھا۔
سوشلزم ایک خواب نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن کر سامنے آیا۔26 جولائی کی تحریک، جو اقتدار میں آئی، ایک گوریلا تنظیم تھی جس کی قیادت چھوٹی بورژوازی یا مڈل کلاس کے پاس تھی۔ اس نے نہ صرف باتیستا کی آمریت کا خاتمہ کیا بلکہ ایک محنت کش ریاست بھی قائم کی—حالانکہ قیادت کا اصل منصوبہ اتنا آگے جانا نہیں تھا۔
لیکن اقتدار میں آنے کے بعد، امریکی کمپنیوں سے ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا۔ تیل کی درآمد پر امریکی انکار کے بعد، فیڈل کاسترو نے کمپنیوں کو ضبط کیا، جس سے سامراج کے ساتھ تصادم اور سرمایہ داری سے مکمل علیحدگی ہوئی۔ تاہم، یہ اقتدار محنت کش جمہوریت (جیسے روس میں سوویت) پر مبنی نہیں تھا، بلکہ گوریلا قیادت کی آمریت کے تحت تھا۔ شروع سے ہی یہ ایک بیوروکریٹک محنت کش ریاست تھی۔ بعد میں، سوویت یونین کی طرح، کیوبا میں بھی سرمایہ داری کی بحالی شروع ہوئی۔ ییشک
1990 کی دہائی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے قوانین، نجکاری، منصوبہ بند معیشت اور بیرونی تجارت کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوا۔
امریکی ناکہ بندی کو کاسترو- شاویزازم “سوشلزم کی دلیل” کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یورپی سرمایہ داروں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ اسپین کی ہوٹل چینز، جیسے میلیا، معیشت پر قابض ہو گئیں۔
آج کیوبا کی صورتحال چین جیسی ہے:کمیونسٹ پارٹی کی آمریت، سرمایہ دار معیشت، اور بورژوا ریاست۔ لہٰذا آج کیوبا کے لیے درکار پروگرام سیاسی نہیں بلکہ سماجی انقلاب ہے—ایک سرمایہ دار آمریت کے خلاف۔
2۔ شاویزازم: چھوٹی بورژوا یا مڈل کلاس قوم پرستی سے بورژوا قوم پرستی تک
شاویزازم کا آغاز 1989 کے “کاراکازو” سے ہوا، جب غریب عوام نے مہنگائی اور نجکاری کے خلاف بغاوت کی۔
1992 میں شاویز کی ناکام فوجی بغاوت نے اسے عوام میں مقبول بنا دیا، اور 1998 میں وہ صدر بن گیا۔
شاویز کی سامراج مخالف تقاریر نے اسے لاطینی امریکہ میں شہرت دی، مگر اس نے کبھی سامراج سے حقیقی علیحدگی اختیار نہیں کی۔ وینزویلا نے قرضے ادا کیے، امریکہ کو تیل فراہم کیا، اور ملٹی نیشنلز کے ساتھ شراکت جاری رکھی۔
“تیل کی قومی تحویل” درحقیقت Exxon, Chevron, Repsol جیسے اداروں کے ساتھ شراکت تھی۔
شاویزازم ایک بونا پارٹسٹ بورژوا حکومت ہے، جو عوامی تحریک پر انحصار کرتی ہے لیکن ریاستی ڈھانچے کو نہیں توڑرہی ۔ سرمایہ داری کو چھیڑا ہی نہیں گیا، بلکہ “بولی بورژوازی” نامی نیا بورژوا طبقہ پیدا ہوا۔ دیو سدادو کابیو جیسے افراد اس نئی اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
وینزویلا آج شدید بحران کا شکار ہے:مہنگائی، قلت، غربت، بیروزگاری—یہ سب سرمایہ داری سے نہ ٹوٹنے کا نتیجہ ہیں۔
محنت کش تحریک کو شدید جبر کا سامنا ہے، اور ہڑتالوں کو طاقت سے کچلا جا رہا ہے۔
3۔ کاسترو-شاویزازم کے زوال کی وجوہات
گزشتہ 30 سالوں میں، اصلاح پسند قیادتیں بتدریج نئی بورژوازی میں تبدیل ہو گئیں۔
یہ عمل مشرقی یورپ، افریقہ، لاطینی امریکہ اور حتیٰ کہ جنوبی افریقہ میں بھی ہوا۔
اسٹالنزم کا عالمی ڈھانچہ ختم ہو گیا، مگر اس کی باقیات آج بھی کیوبا اور وینزویلا کی حمایت کر رہی ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں لاطینی امریکہ میں سامراج مخالف لہر اٹھی، لیکن ان حکومتوں نے اسے توڑنے کے بجائے قابو میں رکھا۔
انہوں نے سرمایہ داری سے علیحدگی نہیں کی، بلکہ عوامی تحریک کو منجمد کر دیا۔
اب یہی حکومتیں زوال کا شکار ہیں۔
نتیجہ
کاسترو- شاویزازم اب انقلابی کارکنوں کے لیے قدرتی حوالہ نہیں رہا۔
اس کا زوال بائیں بازو کے لیے ایک بحران بھی ہو سکتا ہے، اور ایک موقع بھی۔
اگر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ حکومتیں سوشلسٹ نہیں بلکہ بورژوا آمریتیں تھیں، تو ان کے زوال کے منفی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے ہم دنیا بھر کی بائیں بازو کی قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کیوبا اور وینزویلا پر کھلا اور سنجیدہ مباحثہ کریں، اور ایک انقلابی متبادل کی تعمیر ابھی سے شروع کریں۔