مقبول بٹ (1938–1984) بیسویں صدی کے اُس عہد میں ابھرے جب 1947 کا نامکمل سوال ایک مستقل سیاسی و عسکری ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ضلع کپواڑہ کے گاؤں ترہگام میں جنم لینے والے مقبول بٹ نے ایک ایسے معاشرے میں شعور کی آنکھ کھولی جو تقسیمِ ہند، جنگوں اور متصادم ریاستی بیانیوں کی گرفت میں تھا۔ ان کے نزدیک کشمیر محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ ایک تاریخی قوم کا سوال تھا،ایسی قوم جسے حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد جب وہ وسیع تر سیاسی ماحول سے جڑے تو انہیں نوآبادیاتی مخالف فکر، سوشلسٹ لٹریچر اور عالمی قومی آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ اسی فکری پس منظر نے ان کی سیاست کو ایک واضح سمت دی: مسئلہ کشمیر کو صرف سفارتی تنازع کے بجائے ایک محکوم قوم کی جدوجہد کے طور پر سمجھنا شروع کیا ۔
1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جنگ بندی لائن بتدریج لائن آف کنٹرول میں ڈھل رہی تھی۔ بھارت وادی میں اپنے انتظامی اور عسکری ڈھانچے کو مضبوط کر رہا تھا ، جبکہ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر حمایت جاری رکھنے کے باوجود عملی سیاست میں کشمیری جدوجہد کو اپنے تزویراتی مفادات کے تابع رکھا۔ مقبول بٹ کی سیاسی بیداری اسی تضاد کے بطن سے پیدا ہوئی۔ ابتدا میں وہ حقِ رائے شماری کی تحریک سے وابستہ رہے، مگر جلد ہی ان کا مؤقف زیادہ واضح اور انقلابی ہو گیا: نہ بھارت سے الحاق، نہ پاکستان سے انضمام،بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست جموں و کشمیر۔
یہ تصور بعد میں Jammu Kashmir Liberation Front (جے کے ایل ایف) کی شکل میں منظم ہوا۔ اس تنظیم کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ کشمیر کو دہلی اور اسلام آباد کی کشمکش کا مہرہ بنانے کے بجائے ایک خودمختار سیاسی اکائی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
مقبول بٹ کی سیاسی زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ 1960 کی دہائی میں انہیں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں وہ جیل سے فرار ہو کر پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں پہنچے، مگر وہاں بھی آزادی کے مؤقف پر ان کی ثابت قدمی نے ریاستی حلقوں کے ساتھ تناؤ پیدا کیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حصے ایسے بیانیے کو ترجیح دیتے تھے جو کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے تناظر میں دیکھتا تھا، جبکہ مقبول بٹ اسے نوآبادیاتی جبر کے خلاف ایک علیحدہ قومی تحریک کے طور پر پیش کرتے تھے۔ یوں ان کی جدوجہد دو طرفہ دباؤ کا شکار ہوتی گئی ۔
ان کے اپنے سیاسی حلقوں میں بھی اختلافات موجود تھے۔ کچھ ساتھی پاکستان کے ساتھ عملی اتحاد کے حامی تھے، جبکہ دیگر مسلح کارروائیوں کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھاتے تھے۔ 1971 میں جے کے ایل ایف سے وابستہ افراد کی جانب سے طیارہ اغوا کا واقعہ عالمی سطح پر توجہ کا باعث بنا، مگر جلد ہی یہی واقعہ پاکستان میں کریک ڈاؤن کا جواز بن گیا۔ اس مرحلے نے واضح کر دیا کہ قومی آزادی کی تحریک صرف بیرونی جبر ہی نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کی سیاست سے بھی نبردآزما ہے۔
مارکسی نقطۂ نظر سے مقبول بٹ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے “تاریخ میں فرد کے کردار” کا تصور اہم ہے، جسے Plekhanov نے تفصیل سے بیان کیا۔ پلیخانوف کے مطابق افراد تاریخ کو ازخود تخلیق نہیں کرتے بلکہ وہ سماجی و مادی حالات کا اظہار اور تسریع کرتے ہیں۔ اس زاویے سے مقبول بٹ کشمیری مزاحمت کے خالق نہیں بلکہ اس کے ایک مرتکز اظہار تھے۔ ایک ایسے عہد میں جب 1965 کی جنگ کے بعد عسکریت میں اضافہ، رائے شماری کی سفارتی ناکامی، اور عالمی سطح پر قومی آزادی کی تحریکوں کی لہر نے نئی سیاسی راہیں کھول دی تھیں۔
کشمیر کے اندر بھی مادی حالات تبدیل ہو رہے تھے۔ زرعی اصلاحات نے طبقاتی ڈھانچے کو جزوی طور پر بدلا، مگر سیاسی خودمختاری کا سوال حل نہ ہو سکا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری، ریاستی جبر، اور سکیورٹی ڈھانچوں کی مضبوطی نے ایک نئی نسل کو بے چینی میں مبتلا کیا۔ مقبول بٹ کی اہمیت اس میں تھی کہ انہوں نے اس بے چینی کو ایک نظریاتی زبان دی: دہلی اور اسلام آباد کی دوئی سے بالاتر حقِ خودارادیت۔
تاہم مارکسی تجزیہ اس جدوجہد کی حدود کو بھی سامنے لاتا ہے۔ قومی آزادی کی تحریکیں ترقی پسند اور بورژوا افق کے درمیان جھول سکتی ہیں۔ اگر واضح طبقاتی پروگرام موجود نہ ہو تو آزادی کا نعرہ محض اقتدار کی منتقلی تک محدود رہ سکتا ہے۔ بعض بائیں بازو کے ناقدین نے نشاندہی کی کہ اگرچہ مقبول بٹ عوامی اقتدار اور سوشلزم کی بات کرتے تھے، مگر تنظیمی بنیاد کمزور تھی اور بعض مواقع پر مسلح کارروائیاں وسیع عوامی تحریک کی جگہ لے گئیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بھارت کی عسکری برتری اور پاکستان کی تزویراتی سیاست نے کسی بھی کشمیری قیادت کے امکانات کو محدود کر رکھا تھا۔
11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے انہیں ایک علامتی مقام عطا کیا۔ ان کی موت نے 1989 کی بغاوت کو براہِ راست جنم نہیں دیا، مگر وہ اس تحریک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئی۔ پلیخانوف کے الفاظ میں، جب کوئی شخصیت عوامی شعور سے جڑ جائے تو وہ تاریخ میں علامت بن جاتی ہے۔ مقبول بٹ کی شبیہ انکار شدہ رائے شماری، ٹوٹے وعدوں اور عسکری حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی۔
آج جنوبی ایشیا کی سیاست میں جموں کشمیر بدستور ایک متنازع اور غیر حل شدہ مسئلہ ہے۔ بھارت نے اپنے زیرِ انتظام حصے کو آئینی طور پر مزید ضم کر لیا ہے، جبکہ پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقے کا نظم سنبھالے ہوئے ہے۔ مگر مقبول بٹ کا مؤقف اس دوئی سے مختلف تھا: اصل فیصلہ کن قوت کشمیری عوام ہیں، نہ دہلی اور نہ اسلام آباد۔
مارکسی زاویے سے دیکھا جائے تو مقبول بٹ نہ محض ایک رومانوی ہیرو تھے اور نہ ہی محض حالات کا نتیجہ۔ وہ اس مقام پر کھڑے تھے جہاں ساخت اور ارادہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کے تضادات کو زبان دی اور قومی سوال کو ایک عوامی جمہوری مطالبے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ان کی جدوجہد آج بھی بحث کو زندہ رکھتی ہے: کیا آزادی صرف ریاستی بندوبست کی تبدیلی ہے، یا سماجی و طبقاتی ڈھانچے کی مکمل تبدیلی کا نام؟ اور کیا حقِ خودارادیت محض ایک نعرہ ہے، یا محکوم قوموں کے لیے تاریخی ناگزیر ضرورت؟
( ہمارے نزدیک سامراجی غلبہ بیشک نیم نوآبادتی ممالک کی لوٹ مار، نوآبادیات کی غلامی، تاریخ سے محروم قوموں اور قومی اقلیتوں پرمسلط جبر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں ہیں۔ ان بنیادوں کو اکھاڑے بغیر انسانی آٍزادی ممکن نہیں۔ قومی جبر کے خلاف جدوجہد عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کا لازمی جزو ہے۔ )