11 فروری 2026
یونائیٹٹد سوشلسٹ پارٹی کے نیشنل صدر، جوزے ماریا دے المیڈا کے خلاف مقدمے کی ابتدائی سماعت 11 فروری کو منعقد کی گی۔ یہ مقدمہ برازیلین اسرائیلی کنفیڈریشن (CONIB) نے دائر کیا ہے اور اپنے اتحادی نیٹ ورک کے ساتھ مل کر فلسطین میں جاری نسل کشی پر تنقید کرنے والی تمام آوازوں کو مجرمانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
یہ الزام 2023 کی ایک مظاہرے میں زے ماریا کے دیے گئے بیان سے متعلق ہے، جہاں انہوں نے پی ایس ٹی یو کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا پیغام دیا تھا۔
فلسطین کے حامیوں کی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششیں نئی نہیں ہیں ، لیکن اکتوبر 2023 میں نسل کشی شروع ہونے کے بعد ان کوششیوں میں شدت لائی گئی۔ مثال کے طور پر، 2023 میں بولسونارو کے ایک حامی نے فلسطینی کاز کے 130 کارکنوں کی فہرست تیار کر کے امریکی حکومت کو بھیجی تھی ۔
اس کے بعد ہر طرح کے واقعات سامنے آئے۔ مثال کے طور پر، ساؤ پاؤلو میں ہیبرايکا کلب کے دروازے پر پی ٹی فلسطین نیوکلیئس کے دو کارکنوں پر جسمانی حملہ کیا گیا۔ ساؤ پاؤلو، سانتا کیتارینا اور ریو گرانڈی دو سل میں دیگر کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی گئیں۔ سب سے زیادہ معروف کیس صحافی برینو آلٹمن کے خلاف کارروائی تھی۔
مزید برآں، درجنوں فلسطین نواز آوازوں کو صیہونیوں اور برازیلی انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا، دھمکایا گیا اور بدنام کیا گیا۔ مثال کے طور پر، اسی ماہ فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو (UFRJ) کے ایک پروفیسر اور لبرل پارٹی کے مشیر نے سوشل میڈیا پر ساؤ پاؤلو کے فلسطینی فرنٹ کے ارکان جن میں سورایا مسلہ، محمد قدری اور روا السغیر شامل ہیں، کے خلاف بھرپور کمپیئن کی ، نیز ساؤ پاؤلو کے فلسطینی بار اور ثقافتی مرکز "الجانیاہ” کو بدنام کیا۔
قانونی کارروائیوں میں یہود دشمنی (Anti-Semitism) اور صیہونیت مخالف موقف (Anti-Zionism) یا اسرائیل کے نسل کش اقدامات پر تنقید کے درمیان جھوٹی مساوات قائم کی جاتی ہے۔ ناجائز طور پر ان اقدامات کو برازیل کے انسدادِ نسلی امتیاز کے قانون کے تحت لانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو ایک کھلا تضاد ہے۔
دنیا بھر میں صیہونی اتحادی بھی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والی آوازوں کو دبانے اور مجرمانہ بنانے کا سہارا لے رہے ہیں۔
برلن، جرمنی میں فلسطینی پرچم یا اسکارف اٹھانا اور نعرہ "دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا” استعمال کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
فرانس میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرے ممنوع قرار دیے گئے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان کو دبایا جاتا ہے۔
اٹلی میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی انجمن کے صدر محمد حنون اور فلسطینی برادری کے دیگر افراد کو جھوٹے الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں امن پسند گرو "پیلسٹائن ایکشن” کا معاملہ اس وقت مشہور ہوا جب اس کے ارکان نے ایک اسرائیلی اسلحہ ساز فیکٹری کی عمارت پر سرخ رنگ پھینکا۔ برطانوی لیبر حکومت اس گرو پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتی ہے، لہٰذا جو بھی اس گروہ سے یکجہتی کا اظہار کرے ، چاہے پوسٹر کے ذریعے یا زبانی بیان سے ، اسے دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح یونیورسٹی آف لندن نے SOAS لبریشن زون تحریک سے وابستہ طلبہ کو اپنی سہولیات تک رسائی سے محروم کر دیا۔
امریکہ میں بائیڈن اور ٹرمپ دونوں حکومتوں نے جامعات پر دباؤ ڈالا کہ وہ فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے طلبہ کو خارج کریں۔
یہ تمام اقدامات صیہونی ریاست اور اس کی اتحادی حکومتوں کی جانب سے ایک بین الاقوامی کوشش کا حصہ ہیں تاکہ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والی آوازوں کو خاموش کیا جا سکے اور جاری نسل کشی کو چھپایا جا سکے۔
ہم اپنے کامریڈ زے ماریا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ الزامات واپس لیے جائیں اور فلسطین نواز تمام آوازوں کے خلاف ہراسانی کا خاتمہ کیا جائے۔
وہ ہمیں خاموش نہیں کر سکیں گے!
صیہونیت مخالفت یہود دشمنی نہیں ہے!
دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا!
— قومی عاملہ کمیٹی، پی ایس ٹی یو